غلط فہمی

کیا غلط فہمی کی بنیادپر خون سے گہرا رشتہ ختم ہوسکتا ہے؟ ایسا رشتہ کہ جب ہم کسی کو دور رہنے کے باوجود اپنے آپ سے زیادہ سوچیں، اُس کے الفاظ دیکھ کر سمجھ جائیں کہ موڈ خراب ہے یا ٹھیک۔۔!ایسا ممکن تو نہیں! مگر ایسا ہوا کیوں ؟

یہ سوال میرے دماغ میں کلاشنکوف کی گولیوں کی تھڑتھڑاہٹ بن کر بار بار ابھر رہا ہے، مصروف رہنے کے باوجود بار بار یہ خیال آرہا ہے کہ آیا اس طرح کیسے ممکن ہوا، ہم تو ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔

جب پہلی بار غلط فہمی پیدا ہوئی تو میں نے سوال پوچھنے کے بجائے براہ راست وہ بات کہہ ڈالی (جو میری غلطی تھی)، جب اس بات کا احساس ہوا کہ میں سنگین جرم کا ارتکاب کرچکا تو اُس کے بعد سے یہ تہیہ کیا آئندہ کبھی کسی صورت بھی کوئی ایسا سوال نہیں کروں گا جو تکلیف کا باعث بننے۔

مگر اُس روز نہ جانے کیا ہوگیا تھا، ایک احمقانہ سوال پوچھ ڈالا اور جب اُس کا جواب آیا تو دکھ و رنج کی کیفیت میں اُس سے تمام تر شکوہ کیا، یہ شکوہ تھا مگر وہ اسے شک سمجھ رہی تھی۔

اگلی صبح معلوم ہوا کہ جو بات رات میں ہوئی وہ محض غلط فہمی تھی، نہ میں اُس کی بات سمجھا اور اُس نے بھی میری بات کو سمجھے بغیر جواب دیا، اب یہ غلط فہمی سنگلاخ پہاڑوں کی طرح ہماری درمیان کھڑی ہوگئی۔

اگلے روز جو باتیں اُس نے کہیں وہ میرے لیے بہت زیادہ تکلیف دہ تھیں، دکھ اور غم اس بات کا تھا کہ جب ایسا کچھ نہیں ہوا تو پھر یہ سب کیا اور کیوں ہورہا ہے؟۔۔ وہ میری صفائی اور سوال کو مسلسل الزامات ہی تصور کرتی رہی۔

بہت سمجھانے کی کوشش کی، ہر طرح سے سمجھایا مگراُس کا غصہ اپنی جگہ بجا تھا کیونکہ مجھے ایسی بات کرنی ہی نہیں تھی جو کا کوئی سر پیر نہ ہو مگر اب بات زبان سے نکل چکی تھی۔

میری پوچھا گیا سوال اُس کے جذبات و احساسات میں خون آلود تیر کی طرح پیوست ہوئے جنہوں نے اُس کی روح کو چھلنی کردیا، یہ میری ہی غلطی تھی کہ اُس کی روح زخمی ہوئی، اندر خانہ وہ خون کے آنسو روتی رہی مگر اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنے کے لیے اُس نے کمزوری ظاہر نہیں کی۔

رات کے تاریک اندھیرے میں ہلکی ہلکی ہوا جو کبھی مجھے بہترین احساس دیتی تھی وہ گزشتہ کئی روز سے میرا دم گھونٹ رہی ہے کیونکہ ہمارا رشتہ تو ایسا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی تکلیف کا اس قدر احساس کرتے ہیں کہ خود کو ہلکان کر لیتے ہیں، یہ جذبات یکطرفہ نہیں ۔۔۔

ان سب باتوں جذبات، احساسات اور اتنے خوبصورت رشتے کے باوجود ایک سوال پر پیدا ہونے والی غلط فہمی شاید اب دیمک کی طرح ہمارے رشتے کو کھا رہی ہے، شاید اس غلط فہمی کی دیمک نے اُسے اندر سے کھوکھلا کردیا کیونکہ اُسے اب خود بھی نہیں معلوم کہ کیا کچھ بول رہی ہے۔ میری جس چیز پر اُس کو اس قدر ناز تھا وہ مخالفت میں انہی باتوں کو دہرا رہی ہے، معلوم نہیں کہ اُسے کیا ہوگی۔

آسمان کی طرف دیکھ کر میں نے خدائے رب ذوالجلال کو گواہ بناتے ہوئے شکوہ کیا کہ کیا میں واقعی ایسا ہوں؟ جو شخص میرے لیے اتنا اہم، معتبر اور باعثِ عزت ہے کیا اُس کے لیے میں ایسا سوچھ سکتا ہوں جیسا بیان کیا جارہا ہے۔

بہت دیر تک منہ اوپر رہنے کی وجہ سے اب آنسو گالوں پر نہیں کپنٹی سے ہوتے ہوئے بالوں کو گیلا کرچکے مگر سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ کیا غلط فہمی کی بنیاد مضبوط رشتے ختم کیے جاسکتے ہیں۔

جاگتے ہوئے مسلسل چار روز گزر گئے، ہر روز فجر کی اذان کے وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ چھوڑو! تم نے غلط نہیں کیا۔۔!! اُسے اپنی غلطی اور باتوں کا جلد احساس ہوگا!! مگر میں اپنے اس خیال کے خلاف ہوں اُسے احساس ہو یا غم کیونکہ میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں خوش رہے۔

میں اُس کی شکست نہیں دیکھ سکتا، ہر نماز میں صرف اُس کی فتح کی دعا کرتا ہوں کیونکہ اُس کو جب بھی تکلیف ہوگی وہ میری برداشت سے باہر ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: