Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
سی پیک کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس تشکیل | زرائع نیوز

سی پیک کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس تشکیل

سرکاری میڈیا کے مطابق اس خصوصی فورس میں نو ہزار فوجی جب کہ چھ ہزار نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس کی تشکیل سے متعلق وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق 15 ہزار اہلکاروں پر مشتمل فورس تیار کی گئی ہے۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق اس خصوصی فورس میں نو ہزار فوجی جب کہ چھ ہزار نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے طرف سے بار ہا یہ کہا جاتا رہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

پاکستان میں تعینات چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے رواں ماہ ہی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں دیگر اُمور کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحفظ کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق اُس ملاقات میں چینی سفیر نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

رواں ماہ ہی چین کے دو بحری جنگی جہاز بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر پہنچے تھے، یہ جہاز پاکستان بحریہ کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کو محفوظ بنانےکی ذمہ داری نبھائیں گے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں گوادر بندرگاہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، جسے چینی برآمدات اور درآمدات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

لگ بھگ 50 ارب ڈالر مالیت کے اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین کے مغربی علاقے سنکیانگ سے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر تک سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جال بچھانے کے علاوہ مواصلاتی ڈھانچے کی تعمیر، توانائی کے منصوبوں اور صنعتی زونز کا قیام شامل ہے۔

9 thoughts on “سی پیک کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس تشکیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *