Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
مشیر قانون کی حمایت، پی پی عدالت کے سامنے ڈٹ گئی | زرائع نیوز

مشیر قانون کی حمایت، پی پی عدالت کے سامنے ڈٹ گئی

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے مشیر قانون مرتضیٰ وہاب کو عہدے سے ہٹانے کے لئے ایک بجے تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جو ختم ہو چکی ہے، پی پی حکومت نے سندھی ہائی کورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیے۔

چیف سیکرٹری سندھ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں ہوئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود مرتضیٰ وہاب بدستور عہدے پر کام کر رہے ہیں اور سرکاری مراعات کے مزے بھی لوٹ رہے ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ چیف سیکرٹری سندھ نے مشیر قانون کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کر دی تھی لیکن وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے شہر میں نہ ہونے کی وجہ سے سمری پر دستخط نہیں ہو سکا۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ روز شہر میں موجود ہوتے ہیں تو سمری پر دستخط کیوں نہیں ہوئے، اگر ایک بجے تک عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو چیف سیکرٹری سندھ پر توہین عدالت لگے گی۔

عدالتی احکامات کے باوجود مرتضی وہاب سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ مرتضیٰ وہاب کا نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے اور نا ہی سرکاری گاڑی اور دفتر استعمال کر رہا ہوں۔
واضح رہے کہ دو ماہ قبل سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی مشیر قانون کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

9 thoughts on “مشیر قانون کی حمایت، پی پی عدالت کے سامنے ڈٹ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *