Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
منی لانڈرنگ کیس، سندھ پولیس کے اعلیٰ‌ افسران گوہان کو دھمکانے لگے، بڑا ایکشن | زرائع نیوز

منی لانڈرنگ کیس، سندھ پولیس کے اعلیٰ‌ افسران گوہان کو دھمکانے لگے، بڑا ایکشن

کراچی: انسپیکٹر جنرل سندھ(آئی جی) پولیس منی لانڈرنگ کیس کے گواہان کو ہراساں کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ پولیس نے عدالت کے حکم پر شہر قائد میں منی لانڈرنگ کیس کے گواہوں کو ہراساں  کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا اور ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کا تبادلہ کردیا۔

کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کو سندھ کے منی لانڈرنگ کیس پر اثرانداز ہونے اور دو اہم گواہوں کو پولیس گردی کے ذریعے منحرف کرنے کی کوشش کے الزام میں عدالتی حکم پر کی گئی تحقیقات کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا۔

ذرائع کے مطابق کراچی کے دو ایس ایس پیز کے خلاف بھی کارروائی اسی بنیاد پر عمل میں آئی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ذرائع کے مطابق 40 ارب روپے کے منی لانڈرنگ کیس کے سرے سندھ کی سابقہ اور متوقع آئندہ صوبائی حکومت کے مرکزی سیاسی کرداروں کی طرف نکلتے ہیں۔ اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں دو اہم گواہ وعدہ معاف بننے جا رہے ہیں۔

https://zaraye.com/money-laundering-case-zardari-and-talpur/

ذرائع کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے مبینہ طور پر سندھ کے بعد بعض سیاسی کرداروں کے مبینہ ایما پر منی لانڈرنگ کے کیس کے دونوں گواہوں کو اپنے ماتحت پولیس افسران کے ذریعے ہراساں کرایا۔ انہی کے حکم پر کراچی شرقی کے علاقے گلستان جوہر اور کراچی جنوبی کے علاقے گزری میں دونوں گواہوں نورین اسلم اور علی حسن راشدی کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور پولیس نے روایتی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے انہیں انتہائی خوفزدہ کیا۔

معاملہ اعلیٰ عدالت میں گیا تو متاثرہ دونوں گواہوں نے پولیس پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے جس پر اعلیٰ عدلیہ نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ امجد سلیمی کو بھی طلب کیا اور ان سے اس سلسلے میں سخت باز پرس کی۔ سندھ پولیس سربراہ کی لاعلمی پر عدالت نے اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا۔

https://zaraye.com/money-laundering-case/

ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان سے معاملے کی تحقیقات کرائی گئیں تو انہوں نے اپنی رپورٹ میں ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر، دونوں اضلاع کے ایس ایس پیز سمیت متعدد پولیس افسران کو ذمے دار قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق اس پر ابتدائی طور پر دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا گیا اور بدھ کی سہ پہر ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر اور دونوں ایس ایس پی ایسٹ نعمان صدیقی کا تبادلہ کردیا گیا جبکہ ایس ایس پی ساؤتھ عمر شاہد نے ازخود اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا۔

https://zaraye.com/million-money-laundering-bilwal-and-sisters-are-nominate-for-investigation/

واضح رہے کہ مشتاق مہر ساڑھے تین سال سے زائد عرصے سے کراچی پولیس چیف کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

حالیہ انتخابات میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت ملک بھر میں ایس ایچ اوز سے لے کر آئی جیز کے عہدوں کے پولیس افسران کے تبادلے کردیئے گئے تھے مگر “کام کا آدمی” کہہ کر ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کو عہدے سے نہیں ہٹایا گیا تھا اور اب انھیں ایک سنگین الزام کے تحت ہونے سے برخاست ہونا پڑا ہے۔