منی لانڈرنگ کیس، الطاف حسین بے قصور ہیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ کا جواب

اسلام آباد: اسکاٹ لینڈ یارڈ نے چوہدری نثار کا الطاف حسین کے منی لانڈرنگ کیس کھولنے سے متعلق خط کی تصدیق کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ لندن کا اپنا قانون ہے اور مکمل چھان بین کے بعد کسی بھی مقدمے کا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بانی ایم کیو ایم کے خلاف لندن میں دائر منی لانڈرنگ مقدمہ ختم ہونے پر وفاقی وزیر داخلہ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکام کو مقدمہ دوبارہ کھولنے کی گزارش کی تھی۔

چوہدری نثار علی خان کی جانب سے لندن حکومت کو بھیجے جانے والے خط میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بانی ایم کیو ایم کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی تفصیلات پاکستان کو فراہم کی جائیں کیونکہ یہ رقم پاکستان کے ذریعے ہی برطانیہ منتقل کی گئی ہے۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ نے چوہدری نثار علی خان کے خط ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ لندن کی عدالتیں کسی بھی مقدمے کا فیصلہ بغیر تفتیش و تحقیق کے نہیں سناتی۔

کراؤن پراسیکویشن اور اسکاٹ لینڈ یارڈ نے منی لانڈرنگ کیس کی مکمل تحقیقات کر کے عدالت کو شواہد فراہم کیے جس کے بعد جج نے اس مقدمے میں الطاف حسین کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے باعزت بری کیا۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے دیے گئے جواب میں یہ بھی واضح لکھا ہے کہ دوران تفتیش الطاف حسین کا پاسپورٹ ضبط کیا گیا تھا اور اس ضمن میں پاکستانی حکومت سے بھی ثبوت مانگے گئے تھے تاہم فیصلے تک منی لانڈرنگ کے کوئی شواہد نہیں ملے اور لندن کی عدالتوں نے الطاف حسین کو باعزت بری کرتے ہوئے اُن کا پاسپورٹ واپس کیا۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ نے موقف اختیار کیا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس سے متعلق تمام تحقیقات اور تفیتش مکمل ہونے کے بعد نے فیصلہ سنایا لہذا اس مقدمے کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں