کراچی: شہر قائد کے علاقے سہراب گوٹھ میں سجائی جانے والی مویشی منڈی میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں خاطر خواہ کاروبار نہ ہوسکا۔
منڈی انتظامیہ کے حکام سے ذرائع کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق رواں برس پنجاب کا بیوپاری سہراب گوٹھ جانور نہیں لایا بلکہ سندھ اور بلوچستان سے ہی بیوپاری جانور لے کر آئے۔
گزشتہ برس 3 لاکھ سے زائد جانور 35 ہزار ٹرکوں میں بیرون شہر سے لائے گئے تھے مگر امسال صرف 3500 ٹرکوں کے ذریعے مویشی سہراب گوٹھ لائے گئے۔
خریداری کے حساب سے بھی شہری کافی پریشان نظر آئے کیونکہ بیوپاریوں کی جانب سے درمیانے جانور کے نرخ لاکھ روپے سے اوپر مقرر کیے گئے تھے جبکہ بھاری جانور کے ریٹ جیب کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔
جانوروں کی کمیابی کے باعث مویشی منڈی 7 ذوالحج کو ہی خالی ہونا شروع ہوگئی جس کے بعد صرف کٹو یعنی ریوڑ میں چلنے والا جانور بچا جس کے دام بہت زیادہ بتائے گئے۔
ایک بیوپاری سے جب ذرائع کے نمائندے نے قیمتوں کے بڑھنے کی وجوہات پوچھیں تو اُس نے بتایا کہ چارہ ، چوائی ، ٹرانسپورٹ کے علاوہ اس سال انتظامیہ نے جانوروں کے داخلے اور پانی فراہمی کی فیس بہت زیادہ رکھی۔
اُس کا کہنا تھا کہ منڈی انتظامیہ کے علاوہ یہاں مقامی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عہدیدار بھی بیوپاریوں سے بھتے کے عوض پیسے طلب کررہے تھے۔
علاوہ ازیں منڈی انتظامیہ نے جانوروں کے داخلے کی فیس دگنی کردی جو 3500 روپے تھی اور پانی کے لیے فراہم کردہ ڈرموں کا کرایہ بھی 10 روز کے لیے 25 ہزار سے زائد لیا گیا۔
