Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
میڈیا ورکرز کے حق میں مرتضی وہاب کا بیان | زرائع نیوز

میڈیا ورکرز کے حق میں مرتضی وہاب کا بیان

میڈیا سے منسلک تمام کارکنوں کی معاشی صورتحال کو بہتر بنایا جائے،۔

مشیر اطلاعات مرتضی وہاب نے کہا کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس کی زمین کے معاملہ کاوزیر اعلیٰ سندھ جائزہ لے رہے ہیں اور اسے جلد حل کرلیا جائے گا۔۔
کراچی(رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی)میڈیا کارکنوں کے مسائل کے حوالےسےکراچی یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام میڈیا انڈسٹری کے موجودہ بحران اور کارکنوں کے مستقبل پر” میڈیا کنونشن“ کراچی پریس کلب میں منعقد ہوا جس میں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے علاوہ کے یوجے دستور، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، ایپنک، کراچی پریس کلب، اے پی این ایس اور سی پی این ای ، اور پاکستان ایسویسی ایشن آف پریس فوٹو گرافرز کے نمائندﺅں اور صوبائی مشیر اطلاعات و قانون نے شرکت کی، نظامت کے فرائض کے یوجے کے جنرل سیکریٹری عاجز جمالی نے انجام دیے جبکہ کنونشن میں میڈیا نمائندﺅں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کنونشن میں میں صحافتی تنظیموں، کراچی پریس کلب، اے پی این ایس، سی پی این ای اور حکومت سندھ کے نمائندﺅں پر ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا جو موجودہ بحران کے خاتمے کے لئے اپنی تجاویز تیار کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ میڈیا سے منسلک تمام کارکنوں کی معاشی صورتحال کو بہتر بنایا جائے، ویج ایوارڈ سمیت تمام مسائل کو باہمی مشاورت سے حل اور اخبارات اور ٹی وی چیلنز کے اشہارات کی مد میں رکے ہوئے بقایاجات کو فوری ریلیز کرانے کے اقدامات جویز کرے گی۔ کنونشن سے خطاب کرتے صوبائی مشیر اطلاعات و قانون مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تمام حقیقی صحافیوں کے مسائل کو حکومت ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی خصوصاً ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کے لئے تیزی سے کام کیا جائے گا، انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے کو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کریں گے، مرتضی وہاب نے کہا کہ واجبات کا مسئلہ بہت گھمبیر ہے اس کے حل کے لئے محکمہ خزانہ، محکمہ اطلاعات اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرے گی۔ مشیر اطلاعات مرتضی وہاب نے کہا کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس کی زمین کے معاملہ کاوزیر اعلیٰ سندھ جائزہ لے رہے ہیں اور اسے جلد حل کرلیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی تاریخ ہے کہ اس نے ہمیشہ آزار صحافت اور صحافیوں کے حقوق کا خیال رکھا ہے اور میں خود کو بھی صحافی برادری کا ہی حصہ سمجھتا ہوں اور ان کے مسائل سے بخوبی واقف ہوں کیوں کہ میرے والد بھی ایک صحافی تھے اور میں نے یہ تمام مسائل بہت قریب سے دیکھے ہیں۔ مرتضی وہاب نے کہا کہ پیپلزپارٹی میڈیا کی جانب سے تنقید کو ان کا حق سمجھتی مگر حکومت جو مثبت کام کرے انھیں بھی اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے قبل اے پی این ایس کے سیکریٹری جنرل سرمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے کنونشن کا خیرمقدم کیا کہ انھوں نے صحافیوں کے تمام حصوں اور مالکان کی تنظیموں کو اپنے پلیٹ فارم پر مدعو کیا انھوں نے کہا کہ اخباری صنعت اس وقت بہت بڑے بحران کا شکار ہوچکی ہے جس کی وجہ سے اخبارات کو چلانا مشکل ہوگیا ہے اسی وجہ سے ادارے بند ہورہے ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایک وفاقی جماعت ہے جس سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ موجودہ بحران کے خاتمے کے لئے نا صرف سندھ بلکہ وفاق میں بھی یہ معاملہ اٹھائے گی تاکہ میڈیا ہاﺅسز کے رکے ہوئے بقایاجات جلد ادا ہوں اور مزید کسی بری صورتحال سے بچا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ مالکان اور کارکن ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں تاہم موجودہ صورتحال نے سب کو متاثر کیا ہے۔ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹرجبار خٹک نے کہا کہ سی پی این ای نے موجودہ بحران کے خاتمے کے لئے سندھ حکومت کو کئی تجاویز پیش کی ہیں اور ادارے کارکنوں کی حالت زار کو بہتر بنائے بغیر کبھی خوشحال نہیں ہوتے تاہم جب اخبارات میں اشتہارات نہیں ہوں گے، کاغذ کئی گنا مہنگا ہوجائے گا یا ٹی وی چینلز کو اشتہارات نہیں ملیں گے تو ان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا اس لئے وفاق اور سندھ کی سطح پر اس سنجیدہ مسئلے کو فوری حل کیا جانا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام سے قبل جس طرح کے وعدے کیے جارہے تھے ان پر عمل کے بجائے بحران نے شدت اختیار کرلی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت اس بحران پر فوری توجہ دے کیوں کہ آزاد صحافت اور صحافیوں کے معاشی مسائل حل کیے بغیر اس ملک میں جمہوریت پر بھی سوال اٹھیں گے۔ انھوں نے کے یوجے کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یوجے کے سیکریٹری جنرل جی ایم جمالی نے کہا کہ موجودہ صورتحال نے پوری صحافی برادری کو سخت تشویش میں مبتلا کررکھا وفاقی حکومت کی جانب سے اشتہارات کے حوالے سے واضح پالیسی آنا چاہیے یہ میڈیا کی بقا کا معاملہ ہے ہزاروں کارکنوں کا مستقبل داﺅ پر لگا ہوا ہے، ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آچکی ہے، کسی فوری پر ان کی آواز نہیں سنی جارہی ، انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان پیپلزپارٹی کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہیں کہ اس نے ہمیشہ صحافیوں کے مسائل پر ناصر بھرپور آواز بلند کی بلکہ ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ چلی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس احتجاج کا آپش بھی موجود ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ صحافی تنظیموں کے ساتھ مالکان اور حکومت ایک جگہ بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کریں ۔ پی ایف یو جے کے سابق سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہونے کو جارہا ہے یہ عجیب صورتحال ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، پاکستان پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے منشور میں اس بات کو شامل کیا تھا کہ جب بھی وہ برسراقتدار آئیں اطلاعات کی وزارت کو ختم کردیں گی مگر افسوس جب یہ جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں اپنے منشور پر عمل نہیں کرتیں۔ انھوں کہا کہ انفارمشن کی منسٹری صحافیوں میں کرپشن پھیلانے یا انھیں کرپت کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جبکہ میڈیا ہاﺅسز کے مالکان یونینز کو اس وقت کمزور سمجھتے ہوئے اہمیت نہیں دیتے مگر یہی چیز ان کے لئے مستقبل میں بہت نقصان کا باعث بنے گی کیونکہ یونینز کے ہوتے ہوئے کسی میڈیا ہاﺅس سے زیادتی کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا جبکہ آپس کی دھڑبندیوں نے صحافیوں کی آواز کو کمزور کردیا ہے انھیں اپنے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔ کراچی پریس کلب کے سیکریٹری مقصود یوسفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس وقت میڈیا انڈسٹری پر کڑا وقت ہے اور مسائل بے شمار ہیں چاہے صحافیوں کی ہیلتھ کا معاملہ ہو ان کی ملازمت کا یا مالکان کے مسائل اس وقت سب کو ایک جگہ اور اتحاد کے ساتھ اس مرحلے سے نکلنے کے لئے اجتماعی کوشش کرنا ہوگی اور سندھ حکومت کو اٹھارویں ترمیم کے بعد جو خودمختاری حاصل ہے اسے بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہوئے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے کراچی پریس کلب اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے سینئر نائب صدر خلیل ناصر نے اپنے خطاب میں کہ وہ صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور جوبھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا اس میں وہ شانہ بشانہ ساتھ چلیں گے۔ ایپنک کی اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل شہر بانو نے صحافیوں اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والے کارکنوں کے مسائل کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سب کو ملکر ایسا لائحہ اختیار کرنا ہوگا کہ آئندہ اس قسم کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ پی ایف یوجے کے سابق سیکریٹری جنرل خورشید عباسی نے کہا کہ میڈیا کارکنوں اور مالکان کو ساتھ ساتھ چلنا ہوگا کوئی بھی اس مسئلے کا اکیلے حل نہیں نکال سکتا انھوں نے کہا کہ ادارے مضبوط ہونگے تو کارکنوں کا مستقبل بھی محفوظ رہے گا۔ آپس کے اختلافات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ پوری صحافی برادری کا معاملہ ہے۔ صدر کراچی پریس کلب احمد ملک نے کہا کہ اس وقت صحافیوں کے دیگر مسائل تو اپنی جگہ ہیں مگر ان کی صحت اور علاج کے معاملات دن بہ دن خراب ہوتے جارہے ہیں ہمارے دو ساتھی اسپتالوں کے بل ادا نہ کرسکے جس کی وجہ سے ان کا علاج نہ ہوسکا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے اس لئے سندھ حکومت کو اس مسئلے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے بے روزگاری کا سیلاب روکنے کی ضرورت ہے ورنہ ایک نیا بحران پیدا ہوگا۔ انھوں نے کے یوجے کی جانب سے میڈیا کنونشن کے انعقاد کو خوش آئند اقدام قراردیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں ایک جگہ سب کا جمع ہونا اور مسئلے کے حل کا سوچنا بہت بڑی کامیابی ہے اور کراچی پریس کلب کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے اس ملک میں جب بھی جمہوریت یا جمہوری اداروں پر کڑا وقت آیا تو اپنا بھرپور کردار ادا کیا اب بھی کراچی پریس کلب تمام صحافتی تنظیموں، مالکان اور سندھ حکومت کو پیش کش کرتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھیں اور کوئی مثبت حل نکالیں۔ کراچی پریس کلب کے سابق صدر امتیاز خان فاران نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافتی تنظیموں میں دھڑے بندی سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ ان کے حقوق کی آواز مختلف فورمز سے مسلسل بلند ہوتی ہے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو وعدے اور دعوے کیے تھے اب وہ اس کے برعکس کام کررہی ہے اس نے میڈیا کے بحران پر ابھی تک کوئی واضح پالیسی بھی جاری نہیں کی ہے۔ سندھ جرنلسٹس کونسل کے صدر غازی جھنڈیر نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے مختلف اضلاع میں صحافیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے مقدمات کی سخت مذمت کی اور انھیں فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا انھوں نے کہا کہ صحافیوں کو دہشت گردوں کے ساتھ ملانا کتنا بڑا ظلم ہے۔ انھوں کراچی یونین آف جرنلسٹس کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا کہ انھوں نے موجود بحران پر بروقت آواز بلند کی ہے۔ آخر میں کے یوجے کے صدر حسن عباس نے کنونشن میں شرکت کرنے پر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مالکان اخبارات اور چینلز صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے گی۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کی چھانٹیوں کا سلسلہ روکا جائے، انھیں ان کی بنیادی سہولیات، تنخواہیں اور بقایا جات ادا کیے جائیں اور آٹھویں ویج ایوارڈ کو نافذ کیا جائے۔