پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے روزانہ ٹاک شوز کرنے والے اینکر کے ٹی وی شوز میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی اور میڈیا مالکان کو ہدایت کی کہ وہ ایسے لوگوں کو بطور تجزیہ نگار پروگراموں میں مدعو نہ کریں بلکہ اس کی جگہ اچھی شہرت اور وسیع تجزبہ رکھنے والے مہمانوں کو مدعو کیا جائے۔
پیمرا نے ہدایت کی کہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر کوئی رائے نہ دی جائے، براہ راست پروگراموں کو دیر سے نشر کرنے کے نظام سے منسلک کیا جائے، اینکر اپنے ذاتی خیالات کو فیصلے کے انداز میں پیش نہ کرے ، غلط انفارمیشن ، قیاس آرائی اور من گھڑت باتوں پر لوگوں کو گمراہ کرنے والوں کو اپنا پلیٹ فارم استعمال نہ کرنے دیں۔
یہ بھی وضاحت کی گئی کہ عدلیہ یا اداروں کے خلاف غیر مناسب تجزیئے اور منفی پروپیگنڈے پر کارروائی کی جائے گی۔
پیمرا کی جانب سے یہ اعلامیہ گزشتہ روز جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ ضابطے کے تحت اینکر کا رول یہ ہے کہ پروگرام کو معروضی حقائق ، غیر متعصبانہ اور غیر جانبداری کیساتھ چلائیں، اپنے ذاتی خیالات کو فیصلے کے انداز میں پیش نہ کرے جبکہ وہ تجزیہ نگار کی حییثیت سے کسی بھی پروگرام میں شریک نہ ہوں اور نہ ہی کسی ٹاک شو کے توسط سے غلط معلومات نشر کی جائیں۔
پیمرا کے ہدایت نامے پر سینئر صحافیوں اور خود ساختہ تجزیہ نگاروں نے بہت زیادہ شور کیا اور اسے مسترد کردیا، اس ضمن میں صحافتی تنظیموں کی جانب سے مذمت بھی کی گئی جبکہ دیگر صحافیوں نے یہ باور کرایا کہ ہم نے آمریت کے دور میں بھی پابندی کا مقابلہ کیا۔
حامد میر نے ٹویٹ میں کہا کہ یہ پابندی عمران خان کی جانب سے نہیں لگائی گئی مگر انہیں وضاحت دینا پڑے گی۔
میری اطلاع کے مطابق ٹی وی اینکرز پر دوسرے اینکرز کے پروگراموں میں رائے دینے پر پابندی کا فیصلہ وزیراعظم کا نہیں کسی اور کا ہے تاہم وزیراعظم کو وضاحت کرنا ہو گی لیکن اصل ذمہ داری تو چئیرمین پیمرا پر ہی آئے گی کیونکہ قانون کے مطابق پیمرا ایک خودمختار ادارہ کہلاتا ہے https://t.co/9oeajhDfey
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) October 28, 2019
سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے ٹویٹ کیا کہ ’’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘‘۔
چراغ سب کے بجھیں گے ۔۔۔ ہوا کسی کی نہیں #Pamera
— Asma Shirazi (@asmashirazi) October 28, 2019
Journalists/Anchors strongly condemn PEMRA ban calling it as ‘dictatorial’ #sayNotoMediaCurbs pic.twitter.com/FpDyHzDi1P
— Owais Tohid (@OwaisTohid) October 28, 2019
Journalists strongly condemn PEMRA ban as it is ‘dictatorial’
And we will resist any move to gag Press, #mediacurbsNoMore pic.twitter.com/XCrrleFGgx— Kashif Abbasi (@Kashifabbasiary) October 28, 2019
For #PEMRA pic.twitter.com/UlIppxw5TK
— Nasim Zehra (@NasimZehra) October 28, 2019
https://twitter.com/anis_farooqui/status/1188808565974274048?s=20
