اس وقت کراچی میں سیکڑوں میڈیا ورکرز کو سیٹھ مالکان نے نوکریوں سے جبری طور پر برخاست کردیا ہیں ۔جن میں رپوٹرز کمیرہ مین ٹیکنیشنز شامل ہے۔ ملازمتوں سے برطرف ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔
ہونا تو یہ چاٸیے تھا کہ کہ جو بھاری بھر معاوضے پہ رکھے گٸے اینکرز ہیں۔ ان کی تنخواہیں کم کی جاتی یا ان کو نکال دیا جاتا تاکہ ایک کو نکال کر پانچ افراد کے روزگار کو محفوظ بنادیا جائے۔
بقول سیٹھ مالکان کے کہ ان کے ادارے خسارے میں جارہےہیں، گذشتہ روز کے پی کے کی اسمبلی میں صحافیوں کی جبری برطرفی کے خلاف ایک متفقہ طور پرقرارداد منظور ہوٸی ہےلیکن سندھ میں نہ ہی اپوزیشن اور نہ حکومتی نماٸندوں کو توفیق ہوٸی کہ وہ اس مسئلے پر کوٸی قرداد لائی جائے۔
لاہور کے ایک سینٸر نجی ٹی وی کے رپوٹر نے جبری برطرفی کے خلاف پندرہ دن کا نوٹس دیا ہے اگر انھیں ان کی نوکری پر بحال نہ کیا گیا تو وہ خودسوزی پر مجبور ہوگیا۔
آج صحافی خود خبر بنا ہوا ہے، صحافیوں کی جبری برطرفی ظلم و ناانصافی ہے،میڈیا ہاؤسز کی وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب واجب الادا رقم کی ادائیگی کو یقینی بنائے،چیف جسٹس کیساتھ ہونیوالے اجلاس کے فیصلوں پرعملدرآمد کیا جائے۔
صوبوں میں ذرائع ابلاغ کو اشتہارات کی ادائیگی صحافیوں اور کارکنوں کی ادائیگی سے مشروط کیا جائے۔ صحافی اپنی زندگی کو خطروں سے دوچار کرکے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں اس دوران وہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹتھے ہے۔
جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے صحافیوں کو کوئی صلہ یا امداد نہیں دیا جاتا صحافیوں کو بیروزگار کرنا ظلم ہے۔
سندھ حکومت کو میڈیا مالکان سے بات کرنی چاہیے، اور صوبائی سطح پر صحافیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔۔۔۔ صحافیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دی ہیں صحافیوں کے لئے کوئی جاب سیکورٹی نہیں جرنلسٹس سیفٹی بل کو ایوان سے منظور کیا جانا چاہیے صحافیوں کو جاب سیکورٹی اور ویج بورڈ ایوارڈ دیا جائے۔۔۔ خیراندش آصف خان
