23مارچ ۔۔۔۔۔۔قوم کے لئے عہد وفا کا دن۔۔۔۔۔۔۔۔بھارت کا جنگی جنون۔۔۔۔۔دنیا کے اہم ممالک میں نیوزی لینڈ کے بعد مسلمان خطرے میں
23مارچ 1940کو منظور ہونے والی قرارداد پاکستان زندہ قوموں کی تاریخ ہے۔ صرف 7سال میں پاکستان عملی طور پر قائم بھی ہوگیا۔ جو ایک عالمی معاہدے کے تحت عمل میں آیا تھا۔ جس کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی گئیں۔
تقسیم پاکستان کے وقت ریڈ کلف اور وائسرائے نے دھوکہ کرتے ہوئے کلکتہ کو پاکستان کا حصہ نہیں بننے دیا۔ جو مسلم بنگالی اکثریتی علاقہ تھا۔ بعدازاں اسی جگہ سے مکتی باہنی کی تحریک اور مشرقی پاکستان میں بنگالیوں میں احساس محرومی اور شورش کی تحریک چلاکر خاص منصوبہ بندی کے تحت بنگلہ دیش کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس میں پاکستان کے حکمرانوں بالخصوص ذوالفقار علی بھٹو کی فاش غلطی شامل تھی۔انتخابی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
بات یہیں تک نہیں رہی مجیب الرحمان جو وزیر اعظم بنتے انہیں قتل کردیا گیا، یہاں سے بنگلہ دیش کی داغ بیل ڈلی اور بھارت نے باقاعدہ مداخلت کرکے پاکستان کے ٹکڑے کرائے۔
پاکستان بنانے والے مہاجرین نے سندھ سمیت ملک بھر میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر سے ملک کو نظم ونسق چلایا۔ متروکہ سندھ کی املاک جو مہاجرین کے حصے میں آنی تھیں ان پر قبضے ہوگئے جبکہ یہ طے ہوا تھا کہ ہندووں کی املاک مہاجروں کودی جائیں گی جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے ہیں۔
پاکستان دنیا کے خطے پر نظریاتی ملک تھا۔ جو اسلامی ممالک کے لئے مشعل راہ رہا ہے۔ لیکن یہاں سازشیں اور آمریت نے ملک کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
رضوان فکری کی مزید تحریر پڑھیں
خدمت خلق فاؤنڈیشن کو الزامات اور عصبیت کا نشانہ نہ بنائیں
لیاقت علی خان کی پہلی آئینی کوشش قرارداد1948کو جو مدلل تھی اسے ناکام بنانے میں مشرقی پاکستان کا مرکزی کردار رہا۔ 1956کا آئین بھی کردار ادا نہ کرسکا۔ بالاآخر مارشل لاء آگیا اور ایک آمر نے پاکستان کا آئین بنایا ۔ اسی آمر نے سویلین کے بجائے فوجی کو اقتدار منتقل کیا جو یحیی خان تھے۔ پاکستان کا حتمی آئین ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ تھا۔ جو 1973میں دیا گیا۔ پاکستان اسوقت انتہائی مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔
فنانشل ایکٹ ٹیرر ازم فورس FATF نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ ملک میں مہنگائی کا نہ رکنے والا طوفان ہے۔ ملک میں اصل حکومت نیب کی ہے یا فیصلوں کا محور عدالتی نظام ہے۔ آئی ایم ایف ملک میں نئے طوفان لانے کی شرطوں پر قرضے دینے کو تیار ہے۔ایسی صورتحال میں جب ملک میں تین بار وزیر اعظم رہنے والا جیل میں ہے اور کرپشن ریفرنس بھگت رہا ہے ۔ پی پی پی کی اعلی قیادت کی گرفتاری کی تیاری ہو رہی ہے۔ آغا سراج درانی اور شرجیل میمن پہلے ہی گرفتار ہیں ۔
نیب کی وجہ سے مبینہ طور پر ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر، ایک ڈائریکٹر خودکشی کے مرتکب ہو چکے، اسی طرح KDA کا ایک ڈائریکٹر قوی خان اسی بنیاد پر جیل میں انتقال کرگیا جبکہ بہت سے ریٹائرڈ افسران وقت سے پہلے جیلوں میں انتقال کرچکے۔ جسکی اہم وجہ میڈیا پر پگڑیا اچھالنا ہیں۔
عمران خان نے احتساب اداروں دو ہاتھ بڑھ کر بااختیار کردیا ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کی جگہ کھلی کچہریاں لگاتے ہیں، موجودہ پاکستان جسے تحریک انصاف کی حکومت نیا پاکستان کہتی ہے، تیزی کے ساتھ مسائل استان، انتقامی سیاست سے بھرا پڑا ہے۔
ایسے حالات میں 23مارچ 2019پاکستانی قوم کے لئے عہدوفا کے دن کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔قائد اعظم کے اصولوں پر چلنے اور بانیان پاکستان کے محنت محنت اور ملک سے محبت کے نظریئے پر چلنے کا دن ہے۔
پاکستان کی تمام اکائیوں کو ساتھ لیکر چلنے کا دن ہے۔ پاکستان کو امت مسلمہ کا قلعہ بنانے اور ملک پر مرمٹنے کے عزم کا دن ہے۔ مسلح افواج کے شانہ بشانہ چلنے ملک دشمنوں بالخصوص بھارتے اور ملک کے خلاف سوچ رکھنے والوں کیلئے افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور پاکستان پر میلی نگاہ رکھنے والوں کی آنکھیں نکال لینے کے جزبے کو دہرانے کا دن ہے۔
بھارت جو جنگی جنون میں پاگل ہے اور پاکستان سے نفرت میں پیش پیش ہے ۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے دہشت گردوں کو چھڑوا کر بے نقاب ہو چکا ہے۔ کشمیریوں کے خون سے اسکے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں ۔ پلوامہ حملہ پٹھان کوٹ حملہ اسکی اپنی سازش اور انتہا پسندی کی کھلی مثال ہیں۔بھارت ہندو طالبان کا خطے میں سب سے بڑا انتہا پسند اور دہشت گرد ملک ہے جسے دنیا کو دہشت گرد ملک اور FATFکو اسے گرے لسٹ میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ یہ انتہا پسندی کی لہر نیوزی لینڈ اور لندن سے دیگر ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف پھیل چکی ہے۔
گورے طالبان ، انتہا پسند کلیسائی طالبان داعش طرز پر سامنے آچکے ہیں، پچاس مسلمانوں کا قتل نیوزی لینڈ میں ہونے کے نیوزی لینڈ حکومت نے امن پسندی مسلمانوں سے محبت کی عملی مثالیں قائم کردی ہیں۔
وزیر اعظم نیوزی لینڈ جیسنڈاآرڈرن نے قومی اسمبلی کے اجلاس اور جمعہ کو اذان ، دو منٹ کی خاموشی اور عملی اقدامات سے مسلمانوں کے عالمی دنیا میں دل جیت لئے ہیں ۔ لیکن لندن اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کو خوف کی کیفیت کا شکار کردیا گیا ہے۔
عالمی دنیا مسلمانوں کے حوالے سے جانبدارانہ سوچ کو ترک کردے تو تحفظ کا احساس مل سکتا ہے ۔ او آئی سی بھی نکام ادارہ ہے جسکی قراردادوں کو اخبارات کی زینت تو بنایا جاتا ہے لیکن عمل ندارد۔ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستانی قوم کو متحد و کامراں اور سچا پاکستانی بننے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بھی عرض کروں گا کہ پاکستان مخالف سوچ رکھنے والوں کے خلاف جو دل چاہے کیجئے لیکن پاکستان بنانے والے مہاجریں کے ساتھ کسی ایک فرد کی وجہ سے نفرت کی سیاست اور سوچ ختم ہونی چاہئے۔ ورنہ یہ ان قوتوں کو ایندھن دینے کے مترادف ہوگا جو پاکستان کے خیر خواہ نہیں ۔ یوم پاکستان ہماری شناخت ہے اور پاکستان کے لئے پہلی بوند ہے۔ اس لئے اس دن کو عزم کے ساتھ منانے کی ضرورت ہے ۔
