کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے اپنےایک بیان میں پیپلز پارٹی کی متعصب سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں آٹے کے مصنوعی بحران کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو روٹی کپڑا اور مکان دینے کے دعویدار حکمران اہلیان کراچی کو اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے، حکومت کی ناقص اور متعصبانہ پالیسیوں کے باعث کراچی کی فلور ملز کو جو گندم فراہم کی جانی تھی وہ فراہم نہیں کی جارہی جسکی وجہ سے ناصرف کراچی میں گندم کا شدید بحران پیدا ہوچکا ہے بلکہ جو آٹا 100 روپے فی کلو ملنا چاہیے وہ آٹا اب 170 روپے فی کلو ہونے کی وجہ سے متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی بہت دور ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ فلور ملز اور آٹے کی چکیوں کیلئے گندم خریداری کیلئے پرمٹ لازمی قرار دے کر سندھ حکومت نے کرپشن کا ایک اور راستہ کھول دیا اب بند فلور ملز کو بھی کوٹہ فراہم کیا جائے گا،پیپلزپارٹی کی متعصب، نااہل اور کرپٹ حکومت شہری علاقوں کے عوام کا معاشی قتل عام کر رہی ہے،سندھ حکومت عوامی قہر کو آواز نہ دے، پیپلزپارٹی سمجھ لے کہ اہلیان کراچی کی برداشت جواب دے چکی ہے اور عوامی غیظ و غضب کی ایک چنگاری تمہارے اقتدار کو تاراج کردے گی۔
سید مصطفی کمال نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ملک کو چلانے والے شہر کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک بند کیا جائے۔ آٹے کے مصنوعی بحران کی ناصرف فوری تحقیقات کروائی جائے۔
