اجلاس کے شرکاء کاکراچی پریس کلب کے باہر ہونے والے کامیاب احتجاجی مظاہرے پر صحافی بھائیوں کے ساتھ اظہار تشکر
ہم نیوز ایکشن کمیٹی کے کنونیئر عمیر علی انجم نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے کمیٹی کے ارکان کو اعتماد میں لیا، ایکشن کمیٹی کے کنوینر کو ملک بھر کے ارکان قومی اسمبلی سے رابطوں کا ٹاسک دے دیا گیا ،تین رکنی ذیلی کمیٹی نے اپنی پیش رفت رپورٹ پیش کردی
کراچی(پ ر) ہم نیوز ایکشن کمیٹی کے اجلاس ہفتہ کو کنوینر عمیر علی انجم کی زیر صدارت مقامی ہوٹل میں منعقدہ ہوا۔ اجلاس کے شرکاء نے جمعہ کو کراچی پریس کلب کے باہر ہونے والے کامیاب احتجاجی مظاہرے پر صحافی بھائیوں کے ساتھ اظہار تشکر کیا۔
عمیر علی انجم نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے مشاورتی کمیٹی کے ارکان کو اعتماد میں لیا اور ان کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
عمیر علی انجم نے آگاہ کیا کہ علی احمد کرد نے ایکشن کمیٹی کی تجاویز پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بے روزگار صحافیوں کی قانونی معاونت کے لیے تیار ہیں۔
مشاورتی کمیٹی نے احتجاج کے دائرہ کار کو ملک کے دوسرے شہروں تک وسیع کرنے کے لیے اپنی تجاویز کنوینر کو پیش کیں، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے بعد اسلام آباد میں جلد ایک بڑا احتجاجی دھرنا دیاجائے گا ۔
اس سلسلے میں عمیر علی انجم کو اختیار دیا گیا کہ وہ ملک بھر کے ارکان قومی اسمبلی سے رابطہ کرکے انہیں صحافیو ں کے مسائل خصوصاً جبری برطرفیوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں اور اس بات کی کوشش کی جائے کہ اسلام آباد احتجاجی دھرنے میں ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد شریک ہوسکے ۔عمیر علی انجم نے اجلاس کو بتایا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ وہ پہلے ہی رابطے میں ہیں اور ان ارکان کو اب اسلام آباد احتجاجی دھرنے میں شرکت کی دعوت دی جائے گی ۔اجلاس میں ہم نیوز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے انچارج کو ذمہ داری تفویض کی گئی کہ وہ احتجاجی دھرنے کے سلسلے میں تیاریوں کا آغاز کردیں اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اس دھرنے میں شرکت کی دعوت دی جائے ۔اجلاس میں تین رکنی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی ،جس میں بتایا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں ،سول سوسائٹی اور وکلا ء تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان کی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔
