کراچی: ایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی علی رضا عابدی کی والدہ نے چیف جسٹس آف پاکستان اور دوستوں نے مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اصل قاتلوں کو گرفتار کر کے منظر عام پر لایا جائے۔
ایم کیو ایم کے مقتول رہنما کی والدہ نے کراچی پریس کلب پر پریس کانفرنس کی اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ نوٹس لے کر ہمیں انصاف فراہم کریں۔
انہوں نے تفتیش پر سوالات بھی اٹھائے اور کئی اہم نکات بیان کیے جن کی وجہ سے تحقیقات میں بڑا جھول نظر آرہا ہے اور خدشہ ہے کہ اصل قاتل اُس کا فائدہ اٹھا لیں گے۔
والدہ علی رضا عابدی نے درمندانہ اپیل کی کہ ہم انصاف کی بھیگ نہیں مانگ رہے کیونکہ یہ ہمارا حق ہے، قتل کی تحقیقات میں سی ٹی ڈی کی تفتیشی ٹیم نے گواہان کے بیانات کو نظر انداز کیا۔
کراچی پریس کلب میں علی رضا عابدی کی والدہ نے پریس کانفرنس طلب کی جس میں اُن کے وکلا نے بھی شرکت کی۔
کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کی والدہ کا کہنا تھا کہ ”علی رضا عابدی قتل کیس کی تحقیقات کو شفافانہ انداز سے آگے نہیں بڑھایا جارہا“۔ انہوں نے کئی سوالات اٹھاتے ہوئے اہم نقطہ پیش کیا کہ آخر کیوں بیٹے کے موبائل فون کو ان لاک کر کے تفتیش نہیں کی جارہی ہے۔
علی رضا عابدی کی والدہ کا کہنا تھا کہ فون ان لاک اس لیے نہیں کیا جارہا کیونکہ اس کے ذریعے اصل قاتل گرفت میں آجائیں گے۔ قبل ازیں ایک روز قبل علی رضا عابدی کے والد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اطلاع دی تھی کہ اُن کی اہلیہ کل اپنے بیٹے کی قتل کی تحقیقات کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کریں گی۔
دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بھی علی رضا عابدی کے دوستوں اور اُن کے چاہتے والوں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے JusticeForAliRazaAbidi# ہیش ٹیگ استعمال کیا اور مطالبہ کیا کہ انصاف فراہم کیا جائے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما اور بلاگر عمیر سولگنی نے علی رضا عابدی کے ساتھ اپنی ملاقات کی آخری تصویر شیئر کی اور لکھا کہ بدقسمتی سے چند روز پہلے ہونے والی ملاقات آخری ثابت ہوئی۔
شہید علی رضا عابدی کے ساتھ ایک یادگار تصویر، بدقسمتی سے یہ ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔#JusticeforAliRazaAbidi pic.twitter.com/prO5ri0sqR
— Umair Solangi (@UmairSolangiPK) April 8, 2019
