Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کیا سانڈے کا تیل واقعی فائدے مند ہے؟‌ آصف خان کی معلوماتی تحریر | زرائع نیوز

کیا سانڈے کا تیل واقعی فائدے مند ہے؟‌ آصف خان کی معلوماتی تحریر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ میں اگر کبھی آپ کا جانا ہوا ہوں تو اپکی نظر ایک مجمع پہ ضرور پڑی ہوگی جو شروع میں کچھ سانپ دکھاتےہیں اور کچھ من گھڑت کہانیاں سناتے ہے اور بعد ازیں سانڈے کا تیل شیشیوں میں ڈال کے فروخت کرتے ہیں۔

آپ سب نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ”سانڈے کا تیل“ کا نام تو ضرور سنا ہو گا لیکن یہ سانڈے کہاں رہتے ہیں، انہیں ذبح کر کے تیل کیسے بنایا جاتا ہے اور کیا واقعی ان کا تیل ادویاتی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؟ آئیے آپ کو وہ تمام مفید اور دلچسپ معلومات بتاتے ہیں جو بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔

پاکستان میں سب سے زیادہ مردانہ طاقت کی کشیدگی کے لیے قربان ہوتا ہےسانڈا پاکستان میں پایا جانے والا ایک جانور ہے، جو چھپکلی کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ سانڈا چھپکلی ہی کی ایک قسم ہے جو بنیادی طور پر یورپ سے لے کر منگولیا کے مشرقی علاقوں تک پایا جاتا ہے۔ سانڈے کی کھال پر ہلکی اور گہری دھاریاں ہوتی ہیں ۔ سانڈوں کی جلد گہرے رنگ کی ہوتی ہے اور افزائشِ نسل کے زمانے میں اُس کا رنگ چمکدار سبز ہوجاتا ہے۔ پر کسی اور رنگ کی مکسنگ کے ساتھ  سانڈا کیا ہے۔

Image may contain: food
تصویر بشکریہ آصف خان

سانڈا ریگستانی علاقوں میں پایا جانے والا جانور ھے جو گھاس کھا کر گزارہ کرتا ھے ۔اور پانی پیئے بغیر کئی مہینوں تک زندہ رہ سکتا ہے ۔جوڑوں اور پٹھوں میں درد کے علاج کے لیے حکیم لوگ مریضوں کو صدیوں سے استعمال کرا رہے ہیں۔ مشہور ہے کہ اس کی چربی ایسی دیسی یا یونانی حکمت کی ادویات میں استعمال ہوتی ہے جو مردانہ طاقت بڑھانے میں مفید ہیں۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر اس کا شکار کیا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ شکار کے بعد اس جانور کو نہایت اذیت ناک طریقے سے رکھا جاتا ہے۔

پکڑتے ہی، اس کی کمر توڑ دی جاتی ہے جس سے یہ ہمیشہ کے لیےمعذور اور بے حرکت ہو جاتا ہے۔ اس کا اگلا دھڑ بس اتنا کام کرتا ہے کہ یہ اگلی دو ٹانگوں پر سر اٹھائے رکھتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ ہے، جب کہ باقی دھڑ بے جان پڑا رہتا ہے۔ اسے پنجرے میں رکھ کر بھی قید کیا جا سکتا تھا مگر ان شکاریوں اور تاجروں کو اس کی کمر توڑ کر معذور بنا کر رکھنا زیادہ آسان طریقہ محسوس ہوا۔ اسی درد ناک حالت میں اسے ملک کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ خفیہ طور پر منتقل کیا جاتا ہے، اسی حالت میں اسے کھانا دیا جاتا ہے اور تب تک اسے زندہ رکھا جاتا ہے جب تک اس کا کوئی گاہگ نہ آ جائے، جس کے بعد اسے ذبح کر کے اس کی چربی نکال لی جاتی ہے یا اسے اسی حالت میں اس وقت تک زندہ رہنا پڑتا ہے جب تک اسے موت نہ آ جائے۔

مَعدُومیت کے خطرے سے دوچار ہونے اور اس کا شکار غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود، اس کے شکار کے روکنے کے لیے کوئی موثر کارِروائی نہیں کی جا رہی۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر کے مرکزی بازاروں میں فٹ پاتھوں پر آپ کو عطائی نظر آتے ہیں جو اس جانور کو اس حالت میں رکھے ہوئے اپنا غیر قانونی کاروبار کرتے ہیں۔ لوگوں کی صحت سے متعلق اس کاروبار کا کوئی اجازت نامہ بھی ان کے پاس نہیں ہوتا۔

اس سے مثانے اور پشاب کی نالی میں چربی آ جاتی ہے اور تھوڈے وقت بعد طاقت کم ہو جاتی ہے اور اوریجنل طاقت بھی جاتی رہتی ہے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ کمر اور ٹانگوں کی کئی اعصابی تکالیف ہیں جو اس کے تیل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے. رہی سہی کثر حکیم صاحب کے گندے جراثیم زدہ برتن پوری کر دیتے ہیں ۔۔۔ ان گندے برتنوں میں موجود بے شمار جراثیموں کو ذرا محسوس کر کے دیکھیں اور اگر کبھی موقع ملے تو سڑک کنارے بیٹھے ان حکیموں کے نجس، گندے برتن خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا۔

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سے عرب مہمان اور شہزادے اس جانور کا شکار کرنے سندھ وغیرہ کے علاقوں میں آتے ہیں، وہ اسےکھانے کے بہت شوقین ہیں۔ یوں اس جانور کا بے دریغ شکار ہوتا ہے۔ اسے باز فرقوں میں حلال کہا گیا ہے اور باز میں حرام باقی اللّه جانے۔

وما علینا الابلاغ