Zaraye_Cpec

کاش ہم سی پیک کا حصہ ہوتے

یہ تحریر خاص طور پر اُس خاندان کے نام جن کے پیارے سانحہ شاہ نورانی میں متاثر ہوئے اور کچھ اس دنیا کو ہی الوداع کہہ گئے، بلوچستان میں یہ دہشت گردی کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ رواں سال کا تیسرا بڑا سانحہ تھا۔ قبل ازیں سانحہ سول اسپتال، سانحہ پولیس ٹرینگ سینٹر بھی پیش آچکے ہیں۔

ہر سانحے اور لاشیں اٹھانے کے بعد روایتی بیانات، دورے اور نئے عزم کا اظہار، بات یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ انٹیلیجنس بنیادوں پر سانحہ کا الزام کسی پر عائد کرنا اور پھر اگلی لاشوں کا انتظار کرتے رہنا، بس اب ہمارے نصیبوں میں یہی رہ گیا۔
من الحیث القوم ہمیں اپنے ہر ادارے پر بھروسہ تھا ہے اور رہے گا، مگر اس طرح کے بیانات اور کوئی کارروائی عمل میں نہیں آنا عوام کی مایوسی کا سبب بن رہا ہے۔ صبر کرتے کرتے اب صبر بھی ہم سے سوال کرنے لگا ہے کہ آخر تمھارے ٹیکس ، تمھارے حفاظت کے ذمہ دار اور تمھیں ریلیف دینے والے اپنا کام کیوں نہیں کرپاتے۔
پنے زبانوں کو بند کرسکتے ہیں مگر ذہن میں اٹھنے والے خیالات انسان کو سکون سے نہیں جینے دیتے، دو ماہ کے اندر بلوچستان میں ایسے واقعات پیش آئے جس سے وہاں پر ہونے والی خوشحالی سب کو نظر آئی، حد یہ کہ تمام سانحات کے زخمیوں کو کراچی کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
انحہ گڈانی میں 24 مزدور جاں بحق ہوئے، چار روز بعد حکومتی نمائندوں کو ہوش آیا تو انہوں نے دورہ کیا مگر اُس سے قبل میڈیا کو ایک مراسلہ جاری کیا گیا جس میں ڈی ایس این جی اور لائیو کوریج کی استدعا بھی کی گئی، وہاں کھڑے ہو کر وزیر اعلیٰ نے بڑے بڑے اعلانات کیے اور پانی نہ ملنے پر غصہ بھی کر دکھایا۔
سانحہ شاہ نورانی پر وزیر داخلہ بلوچستان کا بیان اہل شعور کے لیے نہایت اہمیت کا حامل تھا کہ جس میں انہوں نے وفاق سے ہیلی کاپٹر مہیا کرنے کی درخواست کی تھی، اس کا واضح مطلب ہے کہ بلوچستان گورنمنٹ کے پاس ہیلی کاپٹر تک موجود نہیں اور یہی نہیں بلکہ قدیمی درگاہ کے قرب وجوار میں طبی سہولیات مہیا کرنے کے لیے اسپتال بنانے کا خیال کبھی کسی کو نہیں آیا۔ بلوچستان جہاں کے عوام حقوق نہ ملنے پر فیڈریشن سے نالاں ہیں انہیں صرف فرضی باتوں سے منانے کی کوشش کی گئی اگر حکومتیں اور ادارے سنجیدہ ہوتے تو ایسے اقدامات کرتے جن کو میڈیا میں دکھانے کی ضرورت نہ پڑتی بلکہ وہاں کی عوام خود آگے سے آگے رہ کر اپنے صوبے کی خدمت کے لیے کوشاں نظر آتی۔
یہ محض دو واقعات ہیں تاہم ہر واقعے کے بعد آپ نے دونوں سیاستدانوں اور دوسرے ادارے کے سربراہوں سے سُنا ہوگا کہ یہ حملہ سی پیک پر ہوا، کمر توڑ دی، دشمن پر نظر ہے اس منصوبے کو ناکام نہیں بننے دیں گے۔ اس کی حفاظت کے لیے ہر قسم کے اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے اور یہی ہوا کہ ماشاء اللہ سی پیک کامیاب ہوگیا، اقتصادی راہداری سے ذریعے ایک قافلہ گوادر پہچ گیا اور وہاں سے جہاز سامان لے کر دوسرے ممالک کے لیے بھی روانہ ہوگیا۔ اس تمام تر صورتحال میں ایک عام پاکستانی کے دل میں جو خیالات پیدا ہوئے وہ خوف کے مارے زبان پر تو نہیں لاسکتا مگر کوئی ان خیالات کو روک بھی نہیں سکتا۔ جس کا گھر کسی سانحے سے متاثر ہوا ہو اور اُس کو آپ یہ بات کہیں تو اُس کا جواب بھی یہی ہوگا کہ “کاش ہم سی پیک کا حصہ ہوتے” تاکہ ہماری بھرپور حفاظت کی جاتی۔
ہمیں اپنے یا پرائے دشمن سے محفوظ رکھا جاتا، ہمارے گھر کا چراغ گل نہیں ہوتا یا زندگی بھر کے لیے اپاہج نہ ہونا پڑتا بلکہ اگر ہم سی پیک کا حصہ ہوتے تو بزدل دشمن ہم پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ دشمن گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری سے خوفزدہ ہے۔ حکومت وقت اور مقتدر حلقے کے لوگوں سے اپیل ہے کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خاص طور پر بلوچستان میں متاثر ہونے والے اہل خانہ یا لواحقین کو اس منصوبے کے تحت نکلنے والی نوکریاں فراہم کی جائیں تاکہ مقامیوں کو ملازمت کے مواقع ملیں اور اگر یہ نوکریاں مشترک دریا کے حصے میں آئیں تو یہ اٹھتے سوالات سب کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں