تحریک انصاف کے بجٹ اقدامات قابلِ‌ تعریف

بجٹ دنیا کے کسی بھی ملک میں پیش کیا جائے، اسے عام طور پر اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہی سمجھا جاتا ہے اور عام طور پر عوام اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ پاکستان میں تو بجٹ کا مطلب ہی مہنگائی سمجھا جاتا ہے اور ہر سال جب بھی بجٹ پیش ہوتا ہے، عوام کی طرف سے کوسنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔

آج تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا، بجٹ میں بہت سے نقائص ہوں گے اور یہ کوئی آئیڈیل بجٹ ہرگز نہیں ہوگا، تاہم کچھ ایسے اقدامات جو اس بجٹ میں کئے گئے ہیں، وہ بلاشبہ تعریف کے قابل ہیں۔ مثال کے طور پر:

1۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ کا فوکس کفایت شعاری پر رکھا گیا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کا اعلان کردیا۔ اب یہ روایت وفاق سے چلی ہے تو صوبوں کو اپنانی ہوگی، وگرنہ عوام کی طرف سے صوبائی حکومتوں پر تنقید ہوگی۔ دس فیصد کمی سے بجٹ خسارے کو تو شاید معمولی فرق پڑے لیکن عمومی رویوں میں بہت بہتر تبدیلی آئے گی، جب وزرا اپنی تنخواہیں کم کرچکے تو بیوروکریسی کے افسران کی بھی عیاشیاں ختم کرنے کیلئے وزرا کے پاس اخلاقی جواز آجائے گا۔اس اقدام کے ٹریکل ڈاؤں ایفیکٹس آنے والے دنوں میں بہت دور تک دیکھے جائیں گے۔حکومت کو سو میں سے سو نمبر اس پر ملنے چاہیئں۔

2۔ ایک اور بہترین کام یہ ہوا کہ گریڈ سترہ سے کم سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ، جبکہ سترہ سے گریڈ بیس تک پانچ فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے اوپر کے افسران کو کچھ نہیں ملا۔ اس سے قبل سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں فلیٹ ریٹ کے حساب سے اضافہ ہوتا تھا، اور اگر کبھی افسران کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوتا تو ان کی مراعات بڑھا دی جاتیں۔ اس بار کم تنخواہ والے ملازمین کو فوقیت دی گئی۔ اس پر بھی حکومت سو میں سے سو نمبر کی مستحق ہے۔

3۔ موجودہ حکومت کی کوششوں سے قطر حکومت سے ایل این جی امپورٹ کا معاہدہ تبدیل کرکے قطر حکومت سے ایل این جی کے ریٹس کم کروائے گئے تھے، جس کی وجہ سے تحریک انصاف نے ایل این جی پر کسٹم ڈیوٹی میں دو فیصد کمی کردی جس کا براہ راست فائدہ عام صارفین کو ہوگا۔ یہ اقدام بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، اس پر بھی حکومت کو سو میں سے سو نمبر ملیں گے۔

4۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا، بلکہ ایک حساب سے دیکھا جائے تو دفاعی بجٹ میں کمی ہوگئی ہے، کیونکہ دفاعی بجٹ اتنا ہی ہے جتنا کہ پچھلے سال، تاہم اس دوران ڈالر کی قدر میں پینتالیس فیصد تک اضافہ ہوچکا، جس کا مطلب یہ ہے کہ دفاعی بجٹ میں تقریباً 18 سے 25 فیصد تک کمی ہوگئی۔ پاک فوج اس کمی کو اس طرح سے مینیج کرے گی کہ اپنے افسران کی تنخواہیں اور مراعات کم کرے گی۔ اس بات پر حکومت اور پاک فوج دونوں کو سو میں سے دو سو نمبر ملتے ہیں۔

5۔ سابقہ حکومت تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ اور قرضہ چھوڑ کر گئی۔ اس کے باوجود موجودہ حکومت نے جی ایس ٹی یعنی ٹیکس کی شرح پرانی سطح پر برقرار رکھی۔ یہ بھی سو میں سے سو نمبر ہیں۔

6۔ کہا جاتا تھا کہ جہانگیر ترین کے دباؤ کی وجہ سے اسد عمر کو ہٹایا گیا کیونکہ اسد عمر شوگر ملوں پر ٹیکس عائد کرنا چاہتا تھا، تو پھر جان لیں کہ اس بجٹ میں یہ ٹیکس عائد ہوچکا۔ اس پر بھی پورے نمبر ملنے چاہیئے۔

7۔ زرعی شعبے کیلئے 280 ارب، فاٹا کیلئے 125 ارب، کراچی اور بلوچستان کیلئے 58 ارب مختص کرکے حکومت نے ثابت کردیا کہ وہ معیشت کی بنیادوں کو ٹھیک کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اس پر حکومت کو سو میں سے 125 نمبر جاتے ہیں۔

8۔ بجلی چوری، منی لانڈرنگ اور کرپٹ مافیا کے خلاف ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ میں باقاعدہ اہداف مقرر کئے گئے۔ اس بات پر بھی حکومت کو سو میں سے دو سو نمبر ملتے ہیں۔

اگرچہ یہ بجٹ آئیڈیل نہیں لیکن مجموعی طور پر پاکستان کی تاریخ میں اس سے بہتر بجٹ آج تک پیش نہیں ہوسکا۔ اللہ سے امید ہے کہ وہ ہر آنےوالا سال حکومت کو اس سے بھی بہتر بجٹ پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔

ویل ڈن تحریک انصاف!!!

یہ تحریر میج ہارون رشید کی فیس بک وال سے لی گئی ہے