Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
محسن داوڑ اور منظور پشتین میں شدید اختلافات ، تحریر : یاسررسول | زرائع نیوز

محسن داوڑ اور منظور پشتین میں شدید اختلافات ، تحریر : یاسررسول

پہلے یہ جان لیں کہ “محسن داوڑ” نے خود گرفتاری نہیں دی تھی بلکہ فوج نے اسے دھر لیا تھا۔۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ جب محسن داوڑ چیک پوسٹ پر فائرنگ کے بعد روپوش ہوکے اپنے گاؤں گیا تو غیور محب وطن قبائلی سرداروں نے اسے فوج کو گرفتاری دینے کا حکم دیا ورنہ اپنے علاقے سے دفا ہوجانے کا کہا کیونکہ سب جان چکے تھے کہ اس غدار نے فوجی چیک پوسٹ پر فائرنگ کرواکے 3 اہلکار شہید کیے ہیں۔

اب PTM کے غدار ایک مرتبہ پھر جھوٹ پھیلا رہے ہیں کہ محسن داوڑ نے خود گرفتاری پیش کی تھی، درحقیقت یہ سفید جھوٹ ہے۔ محسن داوڑ خود اپنے بیان میں بھی اعتراف کرچکا ہے کہ سکیورٹی فورسز اسے گرفتار کرنے کے لیے گاؤں سے گاؤں تلاشی لیتے اسکے اپنے گاؤں پہنچنے ہی والی تھی تو اس نے سرینڈر کرنے کا فیصلہ کیا۔ یعنی اس سے پہلے کہ فوج اسکے اپنے گاؤں آکر کتے کی طرح پٹہ ڈال کر لے جاتی، اس نے قبائلی سرداروں کا حکم مان کر گاؤں سے دفا ہو جانے میں عافیت جانی اور جیسے ہی یہ باہر نکلا تو فوج نے موقع پر ہی اسے دھر لیا۔

اب پی ٹی ایم میں اختلافات پھوٹ پڑے ہیں۔ میں نے کل بتایا تھا کہ اب یہ ایک دوسرے کے گلے کاٹیں گے۔ اب بلکل ایسا ہی ہونے والا ہے۔

تازہ پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ منظور پشتین ٹولے کا محسن داوڑ اور علی وزیر ٹولے سے شدید اختلاف ہوگیا۔ یہ ایک دوسرے کو اندرونی خانہ خوب گالیاں اور لعنت ملامت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ منظور کے مطابق محسن داوڑ اور علی وزیر نے اسکے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے۔

یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ پی ٹی ایم کے اس اندرونی اختلاف میں یہود و نصاری یعنی امریکہ، اسرائیل اور بھارت محسن داوڑ ٹولے کے ساتھ ہیں جبکہ منظور پشتین پرامن احتجاج کرکے مطالبات منوانا چاہتا ہے لیکن محسن داوڑ ٹولا یہود و نصاری کے حکم پر پرامن احتجاج کے بجائے اب فوج پر حملے کروانا شروع ہوگیا جس سے پی ٹی ایم کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ محسن داوڑ کے جارحانہ انداز کی وجہ سے اب ہر کوئی پی ٹی ایم کو غدار کہہ رہا ہے۔ منظور پشتین اس وجہ سے محسن داوڑ اور علی وزیر کو دن رات کوستا پھر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منظور پشتین نے دو دن پہلے ہی امریکی سی آئی اے کی خبر پر انہیں زبردست ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ وائس آف امریکہ والو خدا کا خوف کرو وہ کیوں لکھتے ہو جو میں نے کہا ہی نہیں۔

قارئین !

آنے والے دنوں میں “منظور پشتیں ٹولے” اور “محسن داوڑ ٹولے” میں اختلاف شدت اختیار کرتے جائیں گے، اب یہ ایک دوسرے کے لازمی گلے کاٹیں گے۔ ان تینوں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور مرے گا۔

دراصل اب ان کے درمیان “پشتون تحفظ موومنٹ” کی کمان حاصل کرنے کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔

منظور پشتین بھی بڑا سانپ ہے، یہ کمان اپنے پاس رکھنے اور پی ٹی ایم کی گرتی ساکھ بچانے کے لیے محسن داوڑ اور علی وزیر کو تنظیم سے نکال بھی سکتا ہے یا پھر سیدھا انہیں قتل بھی کروا سکتا ہے۔ دوسری طرف چونکہ یہود و نصاری محسن داوڑ ٹولے کے ساتھ ہیں، وہ منظور پشتن کو قتل کروا سکتے ہیں تاکہ کمان محسن داوڑ کو مل جائے۔ اگر یہود و نصاری محسن داوڑ یا علی وزیر کے غنڈوں کے زریعے منظور پشتین کو قتل کرواتے ہیں تو لازمی محسن داوڑ ٹولا اور خود یہود و نصاری کے تمام چینلز، اخبارات سور عالمی صیہونی میڈیا قتل کا الزام پاک فوج ڈالیں گے۔ اس قتل سے پشتون تحریک کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ قتل کا الزام بھی پاک فوج پر ڈال کر محسن داوڑ ٹولا پشتونوں کو پھر بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرےگا۔ بلاول، مریم اور ن لیگ سے لیکر زرداری تک سب اسکے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

منظور پشتین کو برادرانہ مشورہ ہے، آج سے اپنی سکیورٹی کا خاص خیال رکھے، محسن داوڑ یا علی وزیر کے آدمی اسے مارنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

الحمداللہ آگے جو بھی حالات ہوں، ایک بات واضح ہے کہ PTM کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ یہ غدار اب کھل کر بےنقاب ہوچکے ہیں۔ پورا پاکستان اب ان کی غداری، ملک دشمنی کو پہچان چکا ہے۔

اب ہمیں PTM کو سیاسی مدد فراہم کرنے والے سیاسی غداروں کو بےنقاب کرنا ہوگا۔ بلاول زرداری، راجہ پرویز اشرف اور مریم صفدر، المختصر پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں ہی پاک فوج سے ہمدردی کرنے کے بجائے “محسن داوڑ ٹولے” کے ساتھ دیتے پائے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہم قومی مسائل حل کرنے کے بجائے یہ حرامخور “محسن داوڑ” اور “علی وزیر” کے پراڈکشن آرڈر جاری کروانے کی کوششوں میں ہیں تاکہ غدار جیل سے باہر آئیں تو یہ انہیں بچانے کی کوشش کرسکیں۔ پی ٹی ایم کو ختم کرکے ہمیں ان سیاسی حرامزادوں کو نکیل ڈالنی ہوگی۔