نوجوان بلاگر بلال خان کا قتل ، سوشل میڈیا پر احتجاج

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے نامور بلاگر کو گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت میں خنجر کے وار سے قتل کردیا گیا جبکہ اُن کے بھائی واقعے میں زخمی ہوئے۔

بے باکانہ انداز سے لکھنے والے بلال خان کے قتل پر سوشل میڈیا صارفین سرآپا احتجاج ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

بلال خان نے اپنے قتل سے چار گھنٹے قبل فیس بک پر پوسٹ کی تھی جس کے بعد انہیں کچھ دوستوں کا فون آیا اور وہ اپنے بھائی کے ہمراہ چچا کی موٹرسائیکل لے کر اُن سے ملنے کے لیے گئے۔

دائیں بازو کی سوچ کے حامل بلاگر کے قتل پر بائیں بازوں کے لوگوں نے بھی آواز بلند کی اور انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔

چار گھنٹے پہلے کیا گیا ٹویٹ

اسلام آباد میں پولیس نے سوشل میڈیا کارکن بلال خان کے قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی، ایف آئی کا اندراج بلال کے والد کی مدعیت میں کیا گیا، اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ بلال کو اتوار کی رات کو تقریباً 9 بجے تھانہ کراچی کمپنی کی حدود میں سیکٹر جی نائن فور میں نامعلوم افراد نے خنجروں کے وار کر کے قتل کیا۔

بلال کے والد عبداللہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کا بیٹا جو کہ اسلامی یونیورسٹی کا طالب علم تھا، اتوار کی رات اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بھارہ کہو میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ موجود تھا۔ ان کے مطابق ’بلال کو ایک فون کال آئی لیکن اس نے کہا کہ وہ مہمانوں کے ساتھ مصروف ہے بعد میں بات ہوتی ہے لیکن فون پر دوسری طرف اس کے دوست فوری آنے پر اصرار کر رہے تھے۔‘

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صارفین بلال کو انصاف فراہم کرو Justice4MuhammadBilalKhan# کے ساتھ اُن کے یادگار ٹویٹس اور پوسٹ شیئر کررہے ہیں۔

چند صارفین کا ماننا ہے کہ انہوں نے پی ٹی ایم کی مخالفت کی تھی جو قتل کی وجہ بنی جبکہ چند لوگوں کا مانناہے کہ بلوچستان اور وزیرستان کے مسئلے پر آواز اٹھانا بلال کا جرم تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے ٹویٹس میں سے منتخب ٹویٹس

https://twitter.com/UsamaRa68203395/status/1140567387978326016

https://twitter.com/AliMuavia313/status/1140566950457892865

https://twitter.com/mrasheedi313/status/1140566659696082945

https://twitter.com/UmerKhanNiazi5/status/1140550030857789441

https://twitter.com/MaqboolIrzam/status/1140507202228240385

بلال خان پاکستانی سوشل میڈیا پر خاصے سرگرم تھے اور کالعدم تنظیم اہلِ سنت و الجماعت کے ہمدرد تصور کیے جاتے تھے یہی وجہ ہے کہ اُن کی نماز جنازہ اور جسد خاکی پر سپاہ صحابہ کا پرچم رکھا گیا تھا۔

ماضی میں آسیہ بی بی کی رہائی کے معاملے پر بھی وہ اس فیصلے کے خلاف پیغامات دیتے رہے اور حال ہی میں وہ وزیراعظم عمران خان کی بجٹ کے بعد تقریر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعے کے تناظر میں ’ناموسِ صحابہ بل‘ کی مہم چلا رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر بلال کے قتل کی مذمت کی جا رہی ہے۔ صارف بلال فاروقی نے لکھا کہ ایک نوجوان کا قتل افسوسناک ہے۔