امریکہ کے شہری امن سے پیار محبت سے رہتے ہیں اور امریکی پرچم کو امریکی سلوٹ کرتے ہیں فرانس ہالینڈ اور بقیہ سارے یورپ کا بھی یہ ہی حال ہے برطانیہ تو ہے ہی حکمران اور ہم کہاں ہیں کہاں کھڑے ہیں یہ ضرور سوچا کریں ضرورت سے زیادہ شعور گھر سے نفرت کروا دیتا ہے جسکا شکار ہم ہیں دنیا میں امن کے لحاظ سے ہمارا نمبر 153 ہے اور ہم خود کو دانشوری کے اعتبار سے نمبر ایک سمجھتے ہیں اپنی ہی فوج پہ تنقید کر کے اپنی ہی فوج کے خلاف نعرے بازی کرکے ہم 153 سے یقیناً 160 ویں ملک کے درجہ پر فاٸز ہو جاٸینگے لیکن ہم اس چھوٹے سے پیارے سے ملک کو سنبھال نہیں سکے یہ بات اج دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہوچکی رہتے ہم پاکستان میں ہیں اور پاکستان کا مقابلا کرتے امریکہ سے ہیں جبکہ امریکہ برطانیہ فرانس ڈچ یہ سب تو دنیا کے حکمراں ہیں اور ہم پاکستانی وہ بھی اسلامی یاد تو ہوگا اپ سب کو چینگیز خان اور ہلاکو خان خان سے پٹھان مت سمجھ لیجیے گا خان گھوڑے کا لقب تھا اور چنگیز اور ہلاکو کی رفتار گھوڑے سے کم نہ تھی اس لیے انہیں خان کہا ان دونوں خانوں نے مخبروں یا اپنی فوج کے خلاف رہنے والے یا بات کرنیوالوں کے ساتھ کیا کیا تاریخ میں بہت بھیانک انداز سے لکھا گیا ہے اور سچ لکھا گیا ہے اب اگر ہمیں بھولنے کا مرض ہے یا تاریخ سے دلچسپی نہیں تو اپ کہیں فوج کو برا ملک کو برا کہیں اور اگر فاٸدہ ہو تو مجھے ضرور بتائیں۔
ایک چھوٹا سا فقرہ ہے ”ایسے برا مت کہو یہ میرا ہے“ روزنامہ جنگ میں میرا ایک کالم تھا جو 1998 میں ایٹمی دھماکے سے ایک یا دو روز پہلے چھپا تھا میں ایٹم بم پاکستان کا ہو اسکا شدید مخالف تھا میری خواہش تھی کہ پاکستان اپنا قرضہ معاف کروالے اور ترقی کے لیے نٸی نٸی راہیں چن لے مگر ایسا نہیں ہوا پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو کیا میں اسے برا کہنا شروع کردیتا میں خاموش ہوگیا اور جب سے اب تک اٸیٹمی پاکستان کے فواٸد گن رہا ہوں اور دیکھ بھی رہا ہوں کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھتی ہے اور انکی وہ پابندیاں جن کو ہم کوٸ اہمیت نہیں دیتے تھے اسکا خمیاذہ ہم کب تک بھگتینگے بھارت اور افغانستان کی گیدڑ بھپکیاں ہم اٸیٹمی پاکستان ہو کر سنتے ہیں یا اس بات کو بھی رہنے دیں ہم طالبان القاٸدہ اور داعش کو بھی بھگت رہۓ ہیں یہ ہے ہمارا ایٹم بم FATF اب تک پاکستان سے مطمئن نہیں IMF شراٸط کو مزید سخت کر رہا ہے۔
وزیراعظم ہمیں دنیا کے اگے شرمندہ کر رہا ہے صدر عارف علوی اپنے پرندوں کے شوق پورے کر رہے ہیں کسی منسٹر کو اپ دیکھ لو وہ منسٹری کے قابل نہیں بجٹ عذاب کی صورت سامنے اچکا لیکن ہم فوج کو برا کہنے کا کوٸ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہۓ جبکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کا فاٸدہ کچھ بھی نہیں ہاں ہمیں جرنل ایوب سے لیکر جرنل یحیحیٰ جرنل ضیا مرزہ اسلم بیگ اور پرویز مشرف پہ بات کرنی چاہیے مرزا اسلم بیگ ایک ناکام سیاسی جماعت کا سربراہ پرویزمشرف ایک ناکام سیاسی جماعت کا سربراہ امریکہ میں جونیر بش یا کلنٹن کے دوران حکومت میں ایک ارمی چیف کو ریٹاٸر منٹ کے بعد سیکرٸٹری داخلا یا وزیر داخلہ بنادیا گیا امریکہ سمیت یورپ اور برطانیہ نے ناک بھویں چڑھا لی تھیں مگر ہمارے کچھ ارمی چیف مارشلہ لگا کے بیٹھ گۓ ان پہ بات کرو لیکن جب یہ غیر آٸینی اور غیر قانونی کام ارمی نہیں کرتی تو اس پہ کالم کیوں مضمون کیوں ؟ دنیا بھر میں ایجنسیز اپنا رول ادا کرتی ہیں ملک کے اندار بھی اور ملک کے باہر بھی مگر ہم اپنی ایجنسیز کی ناک میں دم کر دیتے ہیں بجاۓ اسکے کے جو انکا کام ہے وہ کریں اور ارام سے کریں 9/11 کے سانحہ کے بعد امریکہ میں CIA نے کیسا اودھم مچایا پوچھ لیں کسی امریکی سے بلکہ اس سے بھی تھوڑا اور اگے چلیں امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینڈی کو روڈ پہ قتل کیا قتل کرنے والا کون تھا ایجنٹ تھا امریکی ایجینسی کا۔۔۔۔
آٸیں ملک کو سنبھالیں فرد فرد مل کر یہ کام اب تک اس ملک میں اقتدار میں رہنے والی جماعتوں نے نہیں کیا یہ کام انفرادی طور پر ہمارا ہے اصغر خان مرزا اسلم بیگ اور پرویزمشرف نہیں چاہیے اور نہ ہی ہمیں پتہ ہو کے اب ارمی چیف کون ہے اور DG ISPR کون ہے یا کونسا کور کمانڈر ہمارا ہے اسکے لیے میں ہاتھ جوڑ کے ارمی سے کہہ رہا کے اپ اپنی کورکمانڈرز میٹنگ الیکٹرانکس اور پرنٹ میڈیا پہ مت دیں وزیراعظم سے ارمی چیف سوبار ملے لیکن اسکی ویڈیو یا تصویر مت چلایں یہ ہمارے اور اپکے لیے بہت اچھا ہے کام اپ بھی وہی کریں جو دنیا کی اچھی فوجیں کرتی ہیں ایجنسیز کی نظر ہر ادارے پر ہو بس یہ بتایں نہیں کے ہم فلاں فلاں ہیں اور پلیز عمران خان سے اس ملک کو بچائیں اس سے ملک کو جو خطرہ ہے وہ تو اپنی جگہ مگر اسلام بھی خطرے میں ہے اور ہماری تہذیب بھی۔۔۔۔
