Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
منی بجٹ،نئے ٹیکس،مہنگائی کیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ | زرائع نیوز

منی بجٹ،نئے ٹیکس،مہنگائی کیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران طبقے کی عیاشیوں،شاہ خرچیوں اور لوٹ مار کا سارابوجھ غریب عوام پر ڈالنے کے بجائے اربوں روپے کی مراعات حاصل کرنے والے طبقے اور جاگیرداروں پر ٹیکس لگایا جائے،بھاری بھرکم وفاقی کابینہ،ایوان صدر،وزیر اعظم،وزرائے اعلیٰ اور گورنر ہاؤسز کے اخراجات کم کیے ہیں،موجودہ حکومت بھی مراعات یافتہ طبقات اور جاگیرداروں کا اتحاد ہے جو اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور عوام پر گیس اور پیٹرول بم گراتے ہیں،ساری قربانیاں اور ٹیکس عوام دیں اور حکمران شاہ خرچیاں کریں ایسا ہرگز قبول نہیں،امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی قیادت میں جماعت اسلامی ان حکمرانوں،مراعات یافتہ طبقات کے گٹھ جوڑ،آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر مہنگائی میں اضافے کے خلاف تحریک چلارہی ہے،ا س کے لیے طویل جدوجہد اور مزاحمت کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو نیو ایم اے جناح روڈ پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے 170ارب روپے کے نئے ٹیکس و مہنگائی کے سونامی اور کراچی میں بلدیاتی انتخابی عمل کے تاحال مکمل نہ ہونے کے خلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو اس کی حقیقی قیادت سے محروم نہ کیا جائے،کراچی میں بلدیاتی انتخابی عمل کو فی الفور مکمل کیا جائے،ملتوی شدہ 11نشستوں پر انتخابی شیڈول جاری کیا جائے،الیکشن کمیشن میں زیر سماعت نشستوں کے تنازعات کے نتائج حق اور انصاف کی بنیاد پر فوری جاری کیے جائیں،جماعت اسلامی کے منتخب عوامی نمائندے اور میئر کراچی کو ایک بار پھر تعمیر و ترقی کی راہ پر ڈالیں گے، ملک میں مسلط حکمران ٹولا نسل در نسل ملک اور عوام کو کھوکھلا کررہا ہے،یہ ٹولہ اپنی اولادوں کو تو بیرون ملک سے تعلیم دلواتے ہیں لیکن ملک میں جہالت پھیلاتے ہیں اور عوام کو تعلیم،صحت،روزگار، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر سہولیات سے محروم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ان ظالموں کو احساس تک نہیں کہ 272روپے لیٹر پیٹرول لینے والے طالب علم اور نوجوان اپنے روزانہ کے تعلیمی اور ملازمت کے لیے سفری اخراجات کس طرح پورے کریں گے کیونکہ اس مراعات یافتہ طبقے کو تو پیٹرول مفت ملتا ہے،یہ طبقہ نہ تو عوا م کے مسائل کاادراک رکھتا ہے اور نہ ان کے حل کرنے کی صلاحیت، 2لاکھ گاڑیاں فوجی و سول بیوروکریسی کے افسران اور حکمرانوں کے ذاتی استعمال میں ہیں جن کو 400لیٹر اضافی پٹرول ماہانہ ملتا ہے جس کے اخراجات تقریبا300ارب روپے سالانہ تک بنتے ہیں،آئی ایم ایف کے مطابق 2400ارب روپے کے ایسے ٹیکس ہیں جن سے مراعات یافتہ طبقے کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔