Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
ایک ڈاکو سے ملاقات ۔۔۔۔۔ تحریر نوید کمال | زرائع نیوز

ایک ڈاکو سے ملاقات ۔۔۔۔۔ تحریر نوید کمال

میں رات کے دو بجے اسے با وردی نادرا کے ایگزیکٹیو دفتر میں قطار کھڑا دیکھ رہا تھا، ٹریفک پولیس کی سفید وردی پر کہیں کہیں دھویں کے دھبے بتارہے تھے اعلی ترین عدلیہ کے معزز ترین جج کی جانب سے ڈاکو قرار دیا گیا یہ عمر رسیدہ اے ایس آئی لگ بھگ دس گھنٹے کی ڈیوٹی کرکے گھر گیا ہوگا ،بیٹیوں کو ساتھ لیا ہوگا اور رات گئے نادرا کے دفتر پہنچا اور قطار میں لگ گیا۔

میں قطار میں لگے ڈاکو کو دیکھ رہا تھا شدید تھکن کے باوجود دو بیٹیوں کا نادرا پراسز کرواتے ہوئے ایک شفیق سی مسکراہٹ اسکے چہرے عیاں تھی میں یہ منظر دیکھ کر جناب معزز جج کو یاد ہی کر رہا تھا میرے کانوں میں پڑنے والے ایک فقرے نے معزز جج کے جملے کی تکلیف کو کو کئی گنا بڑھادیا ۔۔

نادرا دفتر میں داخل ہونے والے چار نوجوانوں میں سے ایک نے قہقہ بلند کیا ۔۔۔۔اوئے۔۔۔ٹلہ بھی آیا یے شناختی کارڈ بنوانے۔۔

میں بے اختیار اُن کی طرف بڑھنے لگا اچانک خیال آیا کہ جملہ نہ اہلکار نے سنا نہ بیٹیوں نے بلا وجہ تماشہ کھڑا ہوجائے گا شاید اس کے بعد ان بچیوں کی تکلیف کئی گنا بڑھ جائے جو جانے کتنے ہفتوں سے اس سرکاری دستاویز کے لیے باپ کی فرصت کی منتظر تھیں کہ والد فارغ ہو لیکن آخر کار انکو رات کے اس پہر آنا پڑگیا۔

میں در آصل اس نوجوان سے پوچھنا چاہتا تھا آپ کے والد کے عمر کا یہ شخص ٹلہ ہے؟ والد محترم ٹریفک پولیس میں ہوتے تو والدہ سے پوچھتے کہ ٹلہ کہاں ہے؟ اگر کوئی والد کا پیشہ پوچھتا تو یہ جواب دیتا کہ میرا باپ ٹلہ یے؟ میں اُس بے شرم انسان سے یہ کہنا چاہتا تھا اپنی نصف زندگی ان سڑکوں پر تیاگ دینے والے ان اہلکاروں کو جن کے پھپڑوں میں خون کی جگہ دھواں لے چکا یے ،سارا دن ٹریفک کا شور نصف کے قریب قوت سماعت چھین چکا ہے۔

عزت نہیں دے سکتے ستائش نہیں کر سکتے کم از کم تضحیک آمیز جملے بھی نہ کسو، اس بد تمیز نوجوان کو تو میں کہہ جاتا لیکن جج صاحب انکو کون کہے؟ جج صاحب ڈاکو یہ ٹریفک وارڈن نہیں آپ کی عدلیہ کے جج ہیں، ۔وکیل ہیں۔

ایک جسٹس کم سے کم دس لاکھ روپے تنخواہ اور لاکھوں روپے کی دیگر مراعات لے رھا ھے جبکہ عدالتوں میں سترہ لاکھ پینڈنگ کیسز پڑے ہیں۔ کسی دن عدلیہ کے ڈاکووں پیش کاروں ،کلرکوں ،منشیوں ،رجسٹرراوں کو بھی طلب کریں، آپکے الفاظ ان ہزاروں شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ کے لئے کسی بم سے کم نہیں جو جان دیکر امن دے گئے۔

آج آپ اگلی سیٹ پر ڈاکو پولیس والے کو اپنی حفاظت کے لیئے بٹھا کر ان سڑکوں پر سفر کرتے ہیں جج صاحب عدلیہ میں ذرا غور سے دیکھیں کئی وکیل ڈاکو نظر آئیں گے جو یہ جان کر بھی کروڑوں روپے فیس لیکر ملزم کو رہا کراتے ہیں کہ ملزم مجرم ہے۔

جج صاحب یہی ڈاکو وکیل آپ ججز سمیت جس کی چاہے پھینٹی لگاتے ہیں اور آپ بھاگ کر جان بچاتے ہیں۔ جج صاحب کیوں سپریم کورٹ کے اعلیٰ ترین جج کو جسٹس آف پیس کے اختیارات کے متعلق حکم جاری کرنے کے بعد بار کونسلز کے ھاتھوں یرغمال ھو کر اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑجاتا ہے ؟

کیا بے ایمان رشوت خور ججز وکلا عدلیہ کا کل چہرہ ہیں؟ یقینًا نہیں تو چند مٹھی بھر پولیس اہلکاروں کی بدمعاشی، بدعنوانی ،کے باعث آپ پورے محکمے کو کیسے ” ڈاکو” قرار دے سکتے ہیں۔ ۔۔؟