لاہور: جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلباء کی پوزیشن کو پاکستان کی دیگر جامعات کے مقابلے میں پنجاب یونیورسٹی میں بہت منظم و مستحکم سمجھا جاتا تھا البتہ اب طالب علموں اُن کے خوف سے باہر آگئے اور انہیں مسترد کرنے کا حتمی اعلان کردیا۔
گزشتہ دنوں جامعہ میں بلوچ اور دیگر قومیتوں کے طالب علموں پر ہونے والے تشدد کے بعد طالب علموں نے اتحاد کیا اور جمعیت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسلام یا قومیت کے نام پر کسی کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا کیونکہ ماضی میں بھی اس طرح طالب علموں پر تشدد کے واقعات رونما ہوچکے تھے اور انتظامیہ اس قدر بے بس تھی کہ وہ کوئی بھی اقدام نہیں کرتی، اگر ایسا ہو بھی جاتا تو پھر اسٹاف اور دیگر طالب علم جامعہ کو مکمل مفلوج کردیتے تھے۔
حال ہی میں بلوچ طالب علموں پر ہونے والے تشدد کے بعد جامعہ کی صورتحال یکسر تبدیل ہوئی اور طالب علموں نے یونیورسٹی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت کل پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار پنجاب کلچر فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔
جامعہ کے طالب علم نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’’پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجابی کلچرل نائٹ کا انعقاد کیا گیا. جس میں طلبہ کی بھر پور شر کت سے ثابت ہوگیا کہ اب جمعیت جیسی غنڈہ گرد تنظیم کے دباؤ میں نہیں آنے والے‘‘۔
پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجابی کلچرل نائٹ کا انعقاد کیا گیا. جس میں طلبہ کی بھر پور شر کت سے ثابت ہوگیا کہ اب جمعیت جیسی غنڈہ گرد تنظیم کے دباؤ میں نہیں آنے والے. pic.twitter.com/e6MwHIp9cf
— Muhammad Ali aftab (@raialimanj21) October 3, 2019
پروفیسر عمار جان نے لکھا کہ تین دہائیوں کے بعد پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ کا اہم دن تھا، طالب علموں نے کلچرل نائٹ کے ساتھ میوزک پر کھل کر رقص کیا، یہ وہی مقام تھا جہاں ایک ہفتے قبل اسلامی جمعیت طلبہ کے طال علموں نے حملہ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ سب طالب علموں کے اتحاد کی طاقت کا نتیجہ ہے۔
Historic day at Punjab University. After more than 3 decades, students organized a cultural night with music and dance. Event took place week after an attack on students by IJT.
It is a welcome reversal to the overall tendency of conservatism on campuses. #StudentPower https://t.co/19WGBqx1q1
— Ammar Ali Jan (@ammaralijan) October 4, 2019
چند خواتین نے اس پر اعتراض کرتی بھی نظر آئیں کہ ویڈیو میں طالبات نظر نہیں آرہی، انہیں بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے۔
