کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ٹرین میں رحیم یار خان کے قریب سلنڈر کا دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے تین ڈبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وفاقی وزیرریلوے نے حادثے کا سارا ملبہ مسافروں پر ڈال دیا۔
ریلوے حکام کے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 65 ہوگئی جبکہ متعدد زخمی ہیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے مطابق ٹرین کی اکانومی کلاس میں آگ لگی، ڈبے میں تبلیغی جماعت کے لوگ اجتماع میں جارہے تھے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق متعدد لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں۔
شیخ رشید نے کہا کہ زیادہ ہلاکتیں مسافروں کےچلتی ٹرین سےچھلانگ لگانے کی وجہ سے ہوئیں جبکہ شدید زخمیوں کو رحیم یار خان منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھاریاں اور ملتان میں برن یونٹس ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ بوگیوں میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مسافروں کےدو سلنڈر پھٹنے کے باعث بوگیوں میں آگ لگی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ریلوے کی غلطی نہیں،مسافروں کی غلطی ہے۔ مسافر ٹرین میں سلینڈر کیسے لے کر پہنچے ، اس کی تحقیقات کی جائے گی۔ شیخ رشید نے مزید کہا کہ دو گھنٹے میں ٹریک بحال کردیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف کی ہدایت پر پاک فوج کے جوانوں نے بھی ریسکیو کاموں میں حصہ لیا۔
