متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے 23 اگست کو جب فاروق ستار کی قیادت کو تسلیم کیا تو لفظ مہاجر ادا کرنے سے توبہ کرلی بلکہ تمام ہی رہنماء مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی شناخت مہاجر کے بجائے پاکستانی ظاہر کرنے کی قسمیں کھاتے رہے۔
طویل عرصے تک امریکا میں مقیم رہنے والے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری 23 اگست کے بعد وطن واپس پہنچے تو انہوں نے سندھ اسمبلی میں جذباتی خطاب کے دوران اپنی شناخت مہاجریت ختم کرنے کا اعلان کیا اور بہتے آنسوؤں کے ساتھ اپنی پاکستانیت کا یقین دلایا۔
اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار بھی ہزاروں میڈیا ٹاکس اور ٹاک شوز میں یہی باور کرتے نظر آئے کہ اب بس ہم پاکستانی ہیں، یہ مہاجر 22 اگست سے پہلے کی پالیسی تھی، قومی دھارے میں رہ کر ہم اپنے آپ کو منوائیں گے۔
ایم کیو ایم 23 اگست کے بعد اندرونی خلفشار کا شکار رہی تاہم پہلی بار بات نومبر میں اُس وقت سامنے آئی کہ جب فاروق ستار نے پی ایس پی کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، یہی وقت تھا کہ عامر خان جو پہلے کبھی منظر کے یپچھے سے بیٹھ کر پارٹی چلا رہے تھے اب کھلے عام میدان میں آگئے۔
ابتدائی اختلافات کے بعد جو باتیں بھی سامنے آئیں وہ کارکنان اور سیاسی ورکر کے لیے حیران کُن تھیں، مثال کے طور پر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اراکین کے جعلی دستخطوں سے کامران ٹیسوری کو اختیارات دلوائے۔۔۔۔ وغیرہ، بعد ازاں فروری میں ایک مٹینگ کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کو عامر خان نے تھپڑ بھی مارا جس کا دعویٰ ذرائع کے ساتھ رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ بھی کرتے ہیں۔
خیر یہ تو تھیں متحدہ کی باتیں، شہر قائد میں جب بھی کوئی مہاجر حقوق یا اس سے متعلق آواز بلند ہوتی تھی تو تمام ہی سیاسی جماعتیں یہ چیخ و پکار کرتی تھیں کہ 70 سالوں بعد بھی یہ لوگ اپنے آپ کوپاکستانی نہیں سمجھتے، خود سے اپنی شناخت مہاجر رکھ لی، اب تو خدا کے واسطے اپنے آپ کو سندھی سمجھ لیں۔
اب ایسا جلسہ کرینگے ،ایسا جلسہ کرینگے ۔۔ کہ مخالفین الیکشن تک بھی سکائ کرینگے تو درد نہیں جاۓ گا ۔ #جاگ_مہاجر_جاگ @ZahidMansori @faisalsubzwari @DFSMQM @amirkhanMQM90 @SyedAminulHaque @sabheenghoury pic.twitter.com/QuQMLjQDco
— District East MQMPak (@Sh1Shah) May 3, 2018
تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، پی ایس پی اور دیگر بڑی جماعتیں جو دراصل خود لسانی سیاست کی پیروکار ہیں انہوں نے ایم کیو ایم کو قومی سیاست کرنے کا ہمیشہ ہی مشورہ دیا، متحدہ اس راہ پر چل پڑی تو ان جماعتوں نے کراچی سے ووٹ لینے کے لیے مہاجر لفظ پر سیاست شروع کردی۔
تحریک انصاف نے مہاجر سیاست کے لیے اسد عمر، ڈاکٹر عامر لیاقت کو منتخب کیا جنہوں نے مہاجروں کے وہ احسانات گنوائے جو ہم ماضی میں الطاف حسین سے سُن چکے (اب یہ بتانے کا فائدہ نہیں تھا کیونکہ حقیقت کواسٹیبلشمنٹ تسلیم نہیں کرتی اور وہ غلامی چاہتی ہے) جبکہ پیپلزپارٹی نے سعید غنی، شہلا رضا، تاج حید جیسے کمانڈر کراچی کی سیاست کو کور کرنے کے لیے میدان میں اتارے اور تو اور ڈرائی کلینگ کے نام سے مشہور ہونے والے مصطفیٰ کمال نے بھی اپنی توجہ پاکستانیت سے ہٹ کر مہاجر سیاست تک محدود کردی۔
شہر میں ایک بار پھر مہاجر سیاست کا پاراہ ہائی ہوگیا، اس کا سہرا براہ راست پیپلزپارٹی کو جاتا ہے جس نے ایف سی ایریا کے ٹنکی گراؤنڈ جاکر 30 سالوں سے شہر میں منتخب ہونے والے نمائندوں کی آنکھیں کھولیں اور تو اور ایم کیو ایم کے وہ اختلافات بھی حل کروائے جنہیں ریٹائرڈ بزرگ حل نہ کرواسکے۔
ایم کیو ایم نے پی پی کو جواب دینے کے لیے ٹنکی گراؤنڈ میں ہی جلسے کا اعلان کیا ساتھ ہی پورے شہر میں ترنگے کی بہار ہوگئی، کے ایم سی کی گاڑیاں جلسہ گاہ میں اور شہر کی شاہراوں پر بینر لگاتی نظر آئیں، (اتنا حق ایم کیو ایم کا بھی ہے کیونکہ پی پی نے سندھ حکومت کی بھرپور سرکاری مشینری اور وسائل اپنے جلسے پر لگائے تھے)۔

متحدہ کی ایک بار پھر مہاجر سیاست فی الوقت عوامی جذبات کو ابھار سکتی ہے مگر اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں آئیں گے کیونکہ عوام جانتے ہیں ان ہی متحدہ قائدین نے اپنی سیٹیں اور جان بچانے کے لیے 30 سالہ رفاقت پل بھر میں توڑ دی، ایک دوسرے پر قاتل اور کرپشن جیسے سنگین الزام لگا کر گلے لگ گئے تاکہ اپنا عہدہ برقرار رہے۔
دوسری طرف کراچی کے عوام کو یہ بھی یاد ہے کہ آج مہاجر کا نعرہ لگانے والے گذشتہ کل اپنی شناخت پر شرمندہ تھے، یہی لوگ 2013 کے عام انتخابات میں منتخب ہوئے اور 2 سالوں سے اب اپنے حلقوں کے مسائل بھی حل نہیں کرتے بلکہ سب کے سب بادشاہ بن گئے، 2 سالوں کے دوران شہر کے حلقوں کی ابتر صورتحال اور شہریوں کا کرب ایسے ختم نہیں ہوگا کیونکہ یہ انتخابی مہم ہے یہی لوگ جیت پر پھر اسمبلی جائیں گے اور سندھ حکومت کے ساتھ آرام سے پانچ سال گزار مہاجر کارڈ کھیلیں گے۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو جلسے میں بتانا ہوگا کہ انہوں نے خصوصا 2 سالوں میں شہر کی ترقی کے لیے کیا کیا؟ ناکام صفائی مہم؟ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ؟ پانی کی عدم فراہمی؟ حلقے کے عوام کی سہولیات؟ یہ تو عوام کو بتانا ہوگا اور کارکنان کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ 2 سالوں میں ماورائے عدالت قتل (شہید) ہونے والے 7 کارکنان کے لیے متحدہ نے کب آواز اٹھائی اور انہیں کتنا انصاف ملا۔
یہ بھی بتانا ہوگا کہ لندن سے تاحال وابستگی رکھنے والے مہاجر کارکنان کی مخبریاں کس نے کیں اور انہیں لاپتہ کس نے کروایا؟ سرکاری نوکری کے باوجود اُن مہاجروں پر دفتری دروازے کس نے بند کیے اور تو اور کراچی کی نامور قابل شخصیت پروفیسر حسن ظفر عارف کے لیے متحدہ نے کب آواز اٹھائی؟
تعارف:
کالم نگار سیدہ حرا علی سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ہیں اور ایم کیو ایم کی سیاست پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
کالم نگار کی ذاتی رائے کا ادارتی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں جبکہ صارفین کے کمنٹس بھی اُن کی اپنی ذمہ داری ہے۔
