لاک ڈاؤن میں توسیع عوام پر معاشی دہشت گردی مسلط کرنے کے مترادف، تحریر محبوب احمد چشتی

اپنی نااہلی ،بدانتظامی کو لاک ڈاؤن کے پیچھے چھپانا وفاق اور سندھ حکومتوں کو زیب نہیں دیتا، موجودہ صورتحال میں بجائے اس جانب توجہ دی جاتی کہ بہترین انتظامات کئیے جاتے مساجد میں وال تھرو جراثیم کش گیٹ لگائے جاتے ایم کیوایم پاکستان بہادر آباد میں اس کی مثال موجود ہے ملک میں جاری لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کی آمد نے ہمارے ارباب اختیار کے درمیان کی سیاسی نفرت کو اس قوم کے سامنے عیاں کردیا ہے لیکن سلام ہے اس قوم کو جو اس موقعے پر ایک دوسرے کو دیکھ رہی ہے۔
شہرقائد کی مقامی سیاسی جماعتیں اس موقع پر جس حد تک ممکن ہورہاہے اپنے لوگوں کے کام آرہے ہیں منتخب بلدیاتی نمائندوں کے کردار کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے سندھ حکومت ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کرے کہ وہ متعلقہ ڈسرکٹ چیئرمینز ویوسی چئیرمینز سے رابطے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی انجام دے۔
سندھ حکومت نے یونین کونسلز کی ترتیب بھی پرویز مشرف دور حکومت کے تحت نوٹیفیکشن جاری کرکے ہیجان پرپا کردیا تھا لیکن ایم کیوایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری نے ٹاک شو میں بات چیت کرتے ہوئے اس حقیقت کو عوام کے سامنے آشکار کیا اس صورتحال سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ سندھ حکومت ،،متعلقہ ڈپٹی کمشنر ز اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کے درمیان رابطوں کا بدترین فقدان ہے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔
سندھ حکومت تمام ڈسرکٹ چیئرمینز سے رابطوں کو یقینی بنائیں کیونکہ شہرقائد کی ہریونین کونسل کی عوام تک بنیادی سہولیات کی فراہمی ان منتخب نمائندوں کے بغیر انتہائی مشکل ہوگا اور ان رابطوں کے فقدان کی وجہ سے عوام کو شدید معاشی ،صحت مندانہ سہولیات سے محرومی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے حیران کن طور ایک چیئرمین محمد عدنان خان یوسی 21بلدیہ شرقی کی انفارمیش ملتی ہے کہ یونین کمیٹی 21میں کل 2گھر متاثر ہوئے کرونا وائرس کی وجہ سے لیکن جب پوری یونین کمیٹی میں 2کیس ہیں اور وہ کیس بھی 80فیصد ریکور کرچکے ہیں اور ایک سے دو دن میں ان کا دوبارہ ٹیسٹ ہوجائیگا تو پھر پوری یوسی بند کرنے کا کیا جواز بنتا ہے پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جسکا ذکر میں اوپر کی سطروں میں کرچکا ہوں۔
سندھ حکومت اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ شہرقائد میں ایم کیوایم پاکستان ،مئیرکراچی،منتخب بلدیاتی نمائندوں سب کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا لاک ڈاؤن کو سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال نہیں کیا جائے انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیئے بلدیاتی نظام سے استفادہ حاصل کئیے جائیں لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کرنا عوام کا معاشی قتل عام ہے دوسری جانب ان تمام ارباب اختیار کو کرایہ داروں کے لیئے بھی سندھ اور وفاق حکومتوں کو دیکھنا ہوگا کہ کس طرح یہ اہم بنیادی انسانی مسلئہ حل ہوسکے۔
دوسری جانب ایکبار پھر صحافیوں کی جبری برطرفیوں کی ہوا چل پڑی ہے حیدرآباد سے شائع ہونے والے شام کے ایک سندھی روزنامہ(آپ) نیوز سے اچانک لیکن پہلے سے تیارذہنی منصوبہ کو اس سنگین صورتحال میں عمل کرکے ان صحافیوں کے صبر کو آزمایاجارہاہے اس حوالے سے نیوز ایکشن کمیٹی پاکستان نے اپنے شدید تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے جلد صورتحال بہتر ہونے کے بعد ایک کانفرنس کا انعقاد کا عندیہ دیا ہے شہرقائد میں ایک عظیم صحافی رہنما سچ گوئی کی روشن مثال معروف ادیب احفاظ الرحمن اس دار فانی سے کوچ کرگئے بلاشبہ احفاظ الرحمن اپنی ذات میں ایک ادارے کی حثیت رکھتے تھے موجودہ صورتحال میں لاک ڈاؤن کی توسیع عوام الناس کے لیئے کسی زہرقاتل سے کم نہیں ہوگی تمام ارباب اختیار انتطامی سہولیات کو بہتر بنائیں بصورت دیگر قرضوں میں جکڑی اس قوم کو ذہنی ونفسیاتی مریض بننے میں وقت نہیں لگے گا اور اسکی زمہ دارارباب ختیار ہوں گے ۔
