خلیل الرحمان قمر صاحب، آپ کا تہہ دل سے شکریہ …. تحریر عمیر دبیر

خلیل صاحب، آپ کا بے حد شکریہ کیونکہ 70 سالوں میں جو نہ ہوسکا وہ کام آپ نے چند ماہ میں کردیا، جس انداز سے آپ نے مردوں کا مقدمہ کھل کر لڑا اُس پر آپ خراج تحسین کے مستحق ہیں اور سب آپ کو ہیرو قرار دیتے ہیں۔

آپ نے جو بات کہی اور جو نظریہ پیش کیا، لفظ بہ لفظ میں اُس سے مکمل اور غیر مشروط اتفاق کرتا ہوں اور آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ نے اتنا بڑا کام کردکھایا۔ آپ نے ماروی سرمد کے جسم کا تفصیلی مشاہدہ کر کے بالکل درست اندازہ لگایا اور جو بولا بالکل ٹھیک کہا کہ اس بھدے جسم پر کوئی تھوکنا تک پسند نہیں کرتا اور کرے بھی کیوں؟ کیونکہ ماروی صاحبہ کو جھانسہ دینا ناممکن ہے۔

خلیل صاحب، اگر میرے بس میں ہو تو آپ کو اگلا نوبل انعام یا تمغہ امتیاز دلوا دوں کیونکہ آپ کو شاید خود بھی اندازہ نہیں کہ آپ دو ٹکے کی عورت کرتے کرتے بہت بڑا کام کر گئے، جو مرد 70 سالوں میں منافقت کا لبادہ اڑھے بیٹھے تھے ان کی آپ نے صحیح ترجمانی کی، درست کہا جاتا ہے کہ لکھاری اگر اپنی پر آجائے تو وہ مسائل حل کرواسکتا ہے۔

آپ نے جو طرز فکر بیان کی اور بتایا کہ مرد سامنے آنے والی خاتون کے جسم کو دیکھتا ہے، یہ بھی کچھ غلط نہیں، ہاں بالکل ایسی تو ہوتا ہے اور اگر کوئی نہیں کرتا تو اُس کو نامرد، بے وقوف، موقع ضائع کردیا جیسے طعنے دیے جاتے ہیں۔

آپ نے وہ نظریہ بھی اچھے انداز سے بیان کیا کہ اگر کوئی لڑکا کولہوں سے نیچے پینٹ پہنچے، سرعام اپنی بیٹھک کی نمائش کرے تب بھی مردوں کو اُس سے کوئی مسئلہ نہیں، ہاں اگر مسئلہ ہے تو خواتین کے ٹائٹس سے، اُن کے سر پر دوپٹہ نہ اڑھنے سے، اُن کے زیر جامع نہ پہننے سے ہے۔

دیکھیں نا! مردوں نے فحاشی کا نام دے کر خواتین کو برقع اوڑھوائے جب انہوں نے اوڑھنے شروع کیے تو اُسے ناپسندیدہ قرار دیا اور بتایا کہ یہ والا برقع ہی فحاشی کی اصل وجہ ہے کیونکہ مرد تو آنکھیں اور ایڑھیاں دیکھ کر خواتین کے جسم کا مکمل ایکسرے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی شکر ہے کہ آپ کے نظریے کی وجہ سے آج مرد روالپنڈی میں زیادتی کا نشانہ بننے والی چودہ سالہ لڑکی جس کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی اُس کو معصوم بچی کے بجائے عورت قرار دے رہے ہیں اور دنیا کو بتلا رہے ہیں کہ لڑکی 14 سال کی عمر میں جب بالغ ہوجاتی ہے تو شادی کے لیے 18 سال کی حد کیوں مقرر کی گئی ہے؟۔

خلیل صاحب، شکر ہے آپ نے اغلام بازی کا قصور وار بھی عورتوں کو ٹھہرایا، جس انداز سے آپ معصوم پریوں سے اجتماعی زیادتی پر خاموش رہے اُس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کمسن بچیوں سے گینگ ریپ اور اُن کے قتل کی وجہ بھی ان عورتوں کا نعرہ ’میرا جسم میری مرضی‘ ہے۔

پیارے خلیل صاحب، ایک بار پھر آپ کا شکریہ، اب کوئی مرد کسی غیر عورت کو متاثر کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے گا یا منافقت کا لبادہ نہیں اڑھ سکے گا، کیونکہ آپ کی فکر اور نظریہ سامنے آنے کے بعد بچیاں بھی درندہ صفت مردوں سے ہوشیار ہوجائیں گی اور مرد آپ کے نظریے کی بقاء و جدوجہد میں اپنی نظروں میں کبھی حیا پیدا نہیں کریں گے کیونکہ وہ اپنی بہن بیٹی کو بھی بچانا نہیں چاہتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: