اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کے اجلاس میں پی ٹی اے حکام کی جانب سے سپیس ایکس پر سکیورٹی خدشات کا اظہار کر دیا گیا جس کے بعدا سپیس ایکس پروگرام کیلئے ذیلی کمیٹی قائم کر دی گئی،ذیلی کمیٹی میں سینیٹر افنان اﷲ اور سینیٹر ذیشان خانزادہ ممبر ہوں گے ۔
اجلاس میں پی ٹی اے کی جانب سے اسپیس ایکس اسٹارلنک پروگرام پر بریفنگ دی گئی۔ ممبر ٹیلی کام پی ٹی اے نے کہا کہ سپیس ایکس ایک جدید ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ فراہمی کا تیز ترین ذریعہ ہے،ملک کے پسماندہ علاقوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انٹرنیٹ پہنچایا جاسکتا ہے۔
سینیٹر افنان اﷲ نے کہاکہ دور دراز علاقوں کیلئے اس ٹیکنالوجی سے اچھی چیز نہیں ہے، اور محض سیکیورٹی خدشات کی بنا پر سکو روکنا مناسب نہیں۔ کمیٹی نے گوادر میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے مسائل پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاکہ گوادر میں انوسٹرز آرہے ہیں ادھر بہترین انٹرنیٹ پہنچا ئیں۔۔وزارت آئی ٹی حکام کے مطابق گوگل پیمنٹ کا مسئلہ حل ہوگیا،، وزیر اعظم کی ہدایت پر کمپنیوں کو پیمنٹ کردی گئی۔
وزارت آئی ٹی حکام کے مطابق انفراسٹرکچر کی 2 نئی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا گیا،چپ مینوفیکچرنگ جلد پاکستان میں شروع ہو جائے گی۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی نے ایل سیز نہ کھلنے کے معاملہ کا نوٹس لے لیا،کمیٹی نے ایل سیز کے معاملے پر وزارت خزانہ کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا،قائمہ کمیٹی نے ایل سیز کا معاملہ ذیلی کمیٹی کے سپرد کردیا۔
