لاہور : چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے پارٹی قیادت اور قانونی ٹیم کو محسن نقوی کی بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی کے فیصلےکو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف نےمحسن نقوی کی بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی مسترد کردی ہے۔انہوں نے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہاکہ ن لیگ کے پاس اپنے امپائرز کو منتخب کرنے کی تاریخ ہے لیکن یہ ناقابل یقین ہے کہ کس طرح ای سی پی نے پی ٹی آئی کے ایک حلیف دشمن کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر منتخب کیا ۔
ان کا کہنا تھاکہ یہ عہدہ ایک غیر جانبدار شخص کے لیے ہے۔ نقوی نے نیب کے ساتھ رضاکارانہ واپسی کا معاہدہ بھی کیا۔ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کیس نمبر 17/2016 میں قرار دیا کہ رضاکارانہ واپسی کی صورت میں کوئی شخص وفاقی یا صوبائی سطح پر اور نہ ہی کسی ریاستی ادارے میں کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔
ان کا کہنا تھاکہ ای سی پی نے پاکستان کو کیلے کی جمہوریہ بنانے میں ہماری جمہوریت کو مذاق بنانے میں مدد کی ہے۔ میں کل ایک پریسر کا انعقاد کروں گا تاکہ اس پورے فسانے کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی قیادت اور قانونی ٹیم کو فیصلےکو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنےکاحکم دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو پیغام دیا ہےکہ محسن نقوی ایک متنازع شخصیت ہے، محسن نقوی نے ہماری حکومت کے خلاف بیرونی سازش میں آلہ کار کا کردار ادا کیا تھا۔عمران خان نے تمام کارکنان کو ہدایت کی ہےکہ محسن نقوی کی بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی کے خلاف ملک گیر احتجاج میں حصہ لیں۔
