کراچی: حکومت نے 3 بڑے ہوائی اڈوں کی مینجمنٹ آوٹ سورس کرنے کیلئے اقدامات شروع کردیئے۔
متحدہ عرب امارات نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی ائرپورٹ مینجمنٹ میں سرمایہ کاری کی پیشکش قبول کرلی۔
ایئرپورٹ آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ ملک میں ڈالرز کی کمی کے سبب کیا گیا، ایوی ایشن حکام نے سالانہ 300 ملین ڈالر آمدن کا ہدف مقرر کرتے ہوئے ہوائی اڈوں کو 20 سال کیلئے آوٹ سورس کرنے کی تیاری شروع کردی۔
پلان کو سی اے اے نے حتمی شکل دیدی، ذرائع کا کہنا ہےکہ دیگر ائرپورٹس کی مینجمنٹ آوٹ سورس کرنے میں قطر نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، وفاقی حکومت اور پلاننگ ڈویژن نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اقدامات تیز کرنے کی تازہ ہدایت جاری کی ہے۔
سی اے اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی 2015 میں منظور کی گئی تھی، موجودہ حکومت کی تازہ ہدایت کےبعد 3 ائرپورٹس کو آوٹ سورس کیا جارہا ہے، ایوی ایشن حکام کے مطابق حکومت کو ہوائی اڈوں سے سالانہ 30 ارب کی آمدن حاصل ہوتی ہے جبکہ آوٹ سورسنگ کے بعد آمدن میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت ائرپورٹ ٹرمینل سروسز، پارکنگ، گراونڈ ہینڈلنگ، کارگو سروسز اور صفائی کے شعبوں کو آوٹ سورس کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر نگرانی کمیٹی اراکین وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی سیکریٹری ہوا بازی ڈویژن اور وفاقی سیکریٹری منصوبہ بندی تمام امورکی نگرانی کررہے ہیں، چین، ترکیہ نے بھی پاکستانی ہوائی اڈوں کی مینجمنٹ آوٹ سورس میں سرمایہ کاری پر دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ہوائی اڈے
