کرتار پور :‌ شناختی دستاویز کے بغیر سکھ یاتریوں‌ کی آمد نہیں‌ ہوگی، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: میجر جنرل آصف غفور (ترجمان پاک فوج) نے کہا ہے کہ بھارت سے آنے والے سکھ یاتری صرف کرتارپور تک ہی محدود رہیں گےانہیں ایک انچ بھی آگے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، اور پاکستان میں داخلے کے لیے ویزہ کی شرط ضروری ہوگی۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سکھ یاتری کرتار پور سے ایک انچ آگے نہیں جاسکتے ‘ کرتارپور راہداری یکطرفہ راستہ ہے اور کرتارپور کے حوالے سے ملکی سیکیورٹی یا خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا تاہم سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد قانون کے مطابق ہو گی اور انہیں ویزہ دکھانا ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت اور فوج اپنے طور پر کشمیر کے مسئلے پر کام کر رہی ہیں ‘مسئلہ کشمیر کا کرتار پور راہداری سے کوئی تعلق نہیں‘اس کوسیاسی مسئلہ نہ بنایاجائے۔ بھارتی سکھ زائرین متعلقہ جگہوں پر جا سکتے ہیں‘ یہ لوگ حاضری دے کر واپس چلے جائیں گے ‘ دیگر سکھ زائرین ویزے کے حصول کے بعد آئیں گے۔ شناختی دستاویز اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا‘ کرتار پور راہداری سکھ کمیونٹی کے لیے ہے، اسے سیاسی معاملہ نہ بنایا جائے۔ کشمیر کا مسئلہ ستر سال سے چل رہا ہے ، کشمیر پر پاکستان کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ، کشمیر ایک الگ ایشو ہے اس کاکرتارپور راہداری سے کوئی تعلق نہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ متعدد بار دعویٰ کرچکے ہیں کہ کرتاپور راہداری کھلنے کے بعد سکھ یاتریوں کو ویزہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: