واشنگٹن : ینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ اس نے امریکی آسمان کی بلندی پر کچھ مقامات پر پرواز کرنےوالے چینی جاسوس غبارے کا سراغ لگایا ہے اب چین کا رد عمل بھی سامنے آگیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ معاملے کو پرسکون اور احتیاط سے حل کیا جائے۔
گزشتہ روز ایک بیان میں چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ کسی بھی ملک کی سرزمین یا فضائی حدود کی خلاف ورزی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ چین نے کہا کہ اس کے پاس فی الحال امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلینکن کے دورہ بیجنگ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
چین کا یہ اعلان امریکہ محکمہ دفاع کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ اس نے امریکہ کے اوپر سے بلند پرواز کرنے والے ایک چینی جاسوس غبارے کا سراغ لگا یا ہے۔ ایک سینیئر دفاعی عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی درخواست پر وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور اعلیٰ فوجی حکام نے غبارے کو مار گرانے پر تبادلہ خیال کیا لیکن بالآخر فیصلہ کیا کہ یہ زمین پر موجود بہت سے لوگوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان حال ہی میں تائیوان پر اختلافات اور انسانی حقوق کے میدان میں چین کے ریکارڈ اور بحیرہ جنوبی چین میں اس کی فوجی سرگرمیوں کی روشنی میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ بیجنگ نے ماضی میں بارہا امریکہ پر نگرانی کے غبارے بھیجے ہیں۔
