کیلیفورنیا : کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ اس سوال کا جواب ایک سائنس دان کے نزدیک ’نہیں‘ ہے کیونکہ وہ اپنے حاصل کردہ علم کے مطابق ہی سوچتا اور گفتگو کرتا ہے۔
کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہر کاسمولوجسٹ اور فزکس کے پروفیسر شان کیرول کے مطابق موت کے بعد زندگی ‘ناممکن’ ہے۔ اُن کا ماننا ہے “روزمرہ کی زندگی کے تحت طبیعیات کے قوانین مکمل طور پر سمجھے جاتے ہیں۔
سائنس کے مطابق مرنے کے بعد کی زندگی کا یہ نظریہ اس بنیاد پر قائم ہے کہ انسانی شعور ہمارے جسموں سے الگ ہےتاہم، یہ سائنسی طور پر مانا جاتا ہے کہ شعور ایٹموں اور الیکٹرانوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی روح کا جو انسانی جسم کے باہر پڑی ہو سکتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر کیرول نے کہا کہ ’ ہمارے جسموں کے مرنے اور ان کے اجزا کے ایٹموں میں سڑنے کے بعد شعور کی کچھ شکل برقرار رہتی ہے مگر دوبارہ زندہ ہونا یا اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں سمجھنا ایک بہت بڑی اور ناقابل یقین بات ہے۔
روزمرہ کی زندگی کے تحت طبیعیات کے قوانین مکمل طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ اور ان قوانین کے اندر ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ہمارے دماغ میں محفوظ معلومات کو مرنے کے بعد بھی برقرار رکھا جاسکے۔
ایک سائنسی نظریہ کوائٹم فیلڈ تھیوری اس بات کا تاثر پیش کرتا ہے کہ مرنے کے بعد روحوں کی کوئی زندگی نہیں، ہر قسم کے الیکٹران اور فوٹران کے زرے کائنات سے جڑے ہیں۔
اگرچہ یہ بہت سے مومنین کے لیے مایوس کن خبر ہو سکتی ہے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اب بھی موت کے بعد زندگی کا تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ یعنی وہ لوگ جو موت کا قریب سے تجربہ کر چکے ہیں۔
