Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پولیس آفس حملے کے ملزمان نے گاڑی حب سے خریدی ، بس سے کراچی آئے, شرجیل | زرائع نیوز

پولیس آفس حملے کے ملزمان نے گاڑی حب سے خریدی ، بس سے کراچی آئے, شرجیل

کراچی : وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس آفس پر حملے کے 2 مزید ملزمان کو مقابلے میں ہلاک اور 2 کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے گاڑی حب سے خریدی تھی، بس سے کراچی آئے۔کراچی میں انہوں نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی عمران یعقوب منہاس، ڈی آئی جی ذوالفقار لاڑک،انچارج راجہ عمر خطاب اور دیگر سی ٹی ڈی افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔

وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ 17 فروری کو کراچی پولیس آفس پر حملہ ہوا تھا جس میں ہمارے 5 افراد شہید اور 20 کے قریب زخمی ہوئے تھے، حملے کی ذمے داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی، واقعے کی ہمارے اداروں نے تفتیش شروع کی، وفاقی حساس ادارے، سی ٹی ڈی اور دیگر نے تفتیش شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کراچی میں سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی، تمام اداروں نے ایک پیج پر رہ کر دہشت گردوں کا سراغ لگایا، اطلاع ملی کہ کچے کے راستے دہشت گرد حب سے کراچی میں داخل ہو رہے ہیں۔

شرجیل میمن نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی تو سی ٹی ڈی کی ٹیم پر فائرنگ کی گئی، جوابی کارروائی میں 2 دہشت گرد شدید زخمی ہوئے اور 2 گرفتار کر لیے گئے، شدید زخمی دہشت گرد بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے پاس خودکش جیکٹس بھی موجود تھیں، ہلاک دہشت گردوں کی شناخت آریاد اللّٰہ عرف حسن، وحید اللّٰہ عرف خالد عرف حذیفہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ گرفتار دہشت گردوں میں مہران اور عبدالعزیز شامل ہیں، ملزمان کے قبضے سے ایک خودکش جیکٹ، 3 پستول، 2 موٹر سائیکلیں اور 80 گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔وزیرِ اطلاعات سندھ نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کے پی او پر دہشت گرد حملے سے 1 ہفتے قبل بسوں کے ذریعے کراچی آئے تھے، کےپی او حملے کے تینوں دہشت گرد خودکش حملے میں ہلاک دہشت گرد عبدالوحید کی احسن آباد میں واقع رہائش گاہ میں مقیم تھے، دہشت گردوں کو بارودی مواد خیبر پختون خوا کے علاقے ٹانک سے کراچی پہنچایا گیا تھا۔