کراچی : پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں مختلف ادویہ خاص طور پر جان بچانے والی ادویہ کی قلت بہت پریشان کن ہے۔
پی ایم اے اعلامیے کے مطابق پی ایم اے نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ادویات کی تیاری کے لیے خام مال کی درآمد کے لیے ایل سی کی بندش اور پیداواری لاگت میں اضافے کے نتیجے میں ادویہ کی قلت ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہماری حکومت نے ادویات بنانے والوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا، حکومت کے اس غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے مینوفیکچررز کی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا اور اب مریض اور ان کے اہل خانہ اپنی مطلوبہ ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں پریس کے سیکشن میں شائع ہونے والی ان رپورٹس سے صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 1300 ادویات کی پیداوار روک دی گئی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ تعداد 2500 تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ مہنگائی اور خام مال کی قلت کے باعث مزید کمپنیاں ادویہ کی پیداوار بند کر رہی ہیں۔ہمارا صحت کی فراہمی کا نظام پہلے ہی تباہی کا شکار ہے اور ادویات کی کمی صورتحال کو مزید خراب کر دے گی ۔ اگر صورتحال پر قابو پانے کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو آخرکار غریب مریضوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔
پی ایم اے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ کسی بھی ابتر صورتحال سے بچنے اور پاکستان کے معصوم لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے فوری طور پر مناسب اقدامات کیے جائیں۔
