Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
چین پاکستان میں‌ فوجی اڈہ بنا سکتا ہے، امریکی وزیر دفاع کا انکشاف | زرائع نیوز

چین پاکستان میں‌ فوجی اڈہ بنا سکتا ہے، امریکی وزیر دفاع کا انکشاف

امریکی وزارت دفاع یعنی پینٹاگون نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چین دنیا بھر میں اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے اور اس حوالے سے مختلف ممالک میں فوجی اڈے بنا سکتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیجنگ کے فوجی عزائم میں اضافہ ہو رہا اور وہ امریکہ کی برتری کو چیلنج دینے کی تیاری میں ہے۔

امریکی وزارت دفاع کی سالانہ رپورٹ کے مطابق چین نے گذشتہ سال چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی پر 180 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے۔ اس کے ساتھ ہی حکام نے اعتراف کیا کہ یہ فوج پر کیے جانے والے تمام اخراجات کا مظہر نہیں ہے۔ یہ تخمینہ چین میں دفاع کے سالانہ بجٹ 140 ارب ڈالر سے خاطر خواہ زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘چین پاکستان جیسے عسکری اہمیت کے حامل دیرینہ دوست ممالک میں اپنے اضافی فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔’

چینی فوج

دوسرے ممالک کی بندرگاہوں پر اس کے بحری جہاز کے معمول کے سفر کے ساتھ یہ پیش قدمی چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کی غماز ہیں اور یہ چینی فورسز کی پہنچ میں اضافہ کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ چین کی فوج دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔ گذشتہ سال اس نے اپنا پہلا غیرملکی اڈہ افریقی ملک جیبوٹی میں بنانا شروع کیا تھا۔ یہاں پہلے سے ہی دہشت گردی کے خلاف امریکی اڈہ قائم ہے۔

پینٹاگون نے اپنی رپورٹ میں جیبوٹی میں چینی فوجی اڈے کا باربار ذکر کیا ہے اور اس کے ممکنہ نئے فوجی اڈے کے قیام کے لیے پاکستان کا نام لیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان پہلے ہی چین سے سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والا ملک ہے۔

پینٹاگون کے مطابق بحرالکاہل میں پہلے سے ہی چین کی سب سے بڑی بحریہ ہے جس میں 300 سے زیادہ جہاز ہیں۔ تاہم چین ٹکنالوجی اور عسکری صلاحیت میں ابھی بھی امریکہ اور جاپان سے پیچھے ہے۔

اس کے علاوہ چین کا امریکہ کے ساتھ جنوبی بحیرۂ چین کے خطے میں مصنوعی جزائر بنانے اور وہاں فوجی سرگرمی پر سخت اختلاف ہے۔