کراچی: سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون سندھ مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ تنازع سے نکلنے کا آسان حل ہے کہ آرٹیکل 167 کے تحت تمام ججز بیٹھ کر فیصلہ کریں،سپریم کورٹ کا مطلب کوئی ایک جج نہیں بلکہ تمام 15 ججز ہیں ۔
ہفتے کو نیوز کانفرنس کرتےہوئے مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ آئین و جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ مشاورت سے غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، آئین پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد ملا،جس نے 73 کے آئین کا تحفہ دیا اس کو متنازع فیصلے پر تختہ دار پر چڑھایا گیا، 18 ویں ترمیم کے تحت پارلیمان نے غلطیوں کو ٹھیک کیا،جمہوریت جس ارتقائی عمل سے گزری ہے،اس سے اب عدلیہ گزر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک زمانہ تھا کہ جو افتخار چوہدری نے کہا وہ ہوگیا،آئین سے پیپلزپارٹی کو محبت ہے،سیاسی معاملات کو سیاسی انداز سے حل ہونا چاہیے،آئین پاکستان عدالت کے احترام کو واجب قرار دیتا ہے،عدالت نیوٹرل ہے،صوبوں کے اور دیگر تمام تنازعات کو عدالت ہی حل کرے گی۔
ان کا کہناتھاکہ موجودہ تنازع سے نکلنے کا آسان حل ہے کہ آرٹیکل 167 کے تحت تمام ججز بیٹھ کر فیصلہ کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کا ذکر کیا ذوالفقار علی بھٹو کے ریفرنس کا فیصلہ اب تک نہیں آیا ۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کا اس ملک میں کوئی اسٹیک نہیں ہے، وہ وزیراعظم کے عہدے سے ہٹے تو پنجاب و خیبرپختوانخواہ کی حکومتیں بھی ختم کردیں ،اس تنازع کو کسی سڑک پر حل نہیں ہونا،سپریم کورٹ کے15 ججز اس کا فیصلہ کریں۔
مرتضیٰ وہاب نے آئینی بحران سے نکلنے کا آسان طریقہ کیا بتایا ؟
