کراچی : پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی اورحیدر آباد کا ہر پولنگ اسٹیشن حساس قرار دیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ جن کے امیدوار پورے نہیں وہ چاہ رہے تھے کہ انتخابات ملتوی ہوں لیکن الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ 15 جنوری کو ہر صورت الیکشن ہونگے،میں آج بھی دعا کررہا ہوں یہ سارے دھڑے اکھٹے ہوں،ان کے اکھٹے ہونے سے ہمیں سیاسی فائدہ ہے۔
پی ٹی آئی سندھ سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی زیدی کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے اسی منشیات فروش کو میئر متعارف کروانا ہے تو پی ٹی آئی کو جیت کی ایڈوانس مبارک باد، پی ایس 104 میں جا کر معلوم کر لیں کہ کون منشیات کے اڈے چلاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ امن و سکون سے الیکشن ہوں۔
انہوں نے کہاکہ خاص طور پر کراچی کی عوام کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ہم نے تین دن ممبر سازی مہم کی، کراچی والوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لوگوں نے پیسے دے کر پی ٹی آئی کی رکنیت حاصل کی کوئی جماعت ایسی نہیں جو اس سطح پر ممبر سازی مہم کرے اتنے مشکل حالات میں بھی لوگ پیسے دے کر ممبرشپ لے رہے تھے لوگوں نے کہا کہ ہم ممبر بن کر دن رات کام کرنا چاہتے ہیں ہر جگہ لوگوں کا جم غفیر تھا نوابشاہ میں دو دن ممبر سازی کیمپ لگادو دن میں 24ہزارممبر بنےچند دنوں میں ڈیٹا اکھٹا کر کے ممبرز کی تعداد بتائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو حالات اس صوبے اور اسکے دارلخلافہ کراچی کے ہیں اسکے ذمہ دار وہ ہیں جو 15 سال سے حکومت کررہے ہیں۔ یہ دن رات عمران خان پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ سندھ کے شہر گاؤں بنے ہوئے ہیں تو اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟ سوا کروڑ بچہ اسکولوں سے باہر ہے اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟ انفرااسٹرکچر تباہ ہے اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟ صحت کا نظام تباہ ہے، سندھ میں صحافیوں کا قتل ہوتا رہا اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟ کراچی میں اسٹریٹ کرائم آسمان پر پہنچا ہوا ہے۔ اومنی گروپ، صولت مرزا اور عزیر بلوچ جیسے نکل کر آئے، کیا وہ عمران خان کی سرپرستی میں نکلے تھے؟ یہ اپنی نا اہلی دوسروں کے سر پر ڈالتے ہیں ۔
بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے علی زیدی کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کے سارے اضلاع میں الیکشن ہونے جارہا ہے۔ تحریک انصاف کے ہر جگہ امیدوار ہیں۔میں تمام اداروں کے سربراہان سے مخاطب ہوں، خاص طور پر ڈی جی رینجرز سے مخاطب ہوں۔ میرے پاس با وثوق ذرائع سے اطلاعات ہیں کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ الیکشن میں دھاندلی اور حالات خراب کئے جائیں۔ یہ پولیس کو استعمال کریں گے، یہ خونی الیکشن ہونے جارہا ہے۔ سب کو معلوم ہے میں کس کی بات کررہا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ شہر پورے پاکستان کو پالتا ہے۔اس شہر کے ساتھ بڑا ظلم کیا گیا ہے۔ اس شہر میں بہت مشکل سے امن قائم ہوا تھا۔ اس وقت کے ڈی جی رینجرز بلال اکبر نے بہترین کام کیا تھا۔ اب حالات دوبارا خراب ہونے جارہے ہیں۔ یہ دھاندلی اور حالات خراب کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ میں نے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے تمام پولنگ سٹیشن حساس قرار دیے جائیں، لوگوں میں اس وقت شدید غم و غصہ ہے، لوگ حالات سے پریشان ہیں۔ دہشت گردی ملک میں بڑھ رہی ہے۔ میں ساروں سے ہاتھ جوڑ کر التماس کررہا ہوں کہ اپنا کردار ادا کریں۔ ہم اسٹیبلشمنٹ سے کوئی فیور نہیں چاہتے۔
