لاس ویگاس، حملہ آور کی شناخت، امریکی سر پکڑ کر بیٹھ گئے

امریکی شہر لاس ویگاس میں میوزک کنسرٹ کے دوران فائرنگ کے واقعے میں 58 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے اکثر افراد کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لاس ویگاس پولیس شیرف جوزف لومبارڈو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جائے وقوع پر 58 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے۔

لاس ویگاس میں فائرنگ کے بعد کنسرٹ کے مقام کا منظر — فوٹو / اے ایف پی

لاس ویگاس کے ایک پولیس افسر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جیسے ہی پولیس کو ’منڈالے بے‘ کے کیسینو کے باہر فائرنگ کی اطلاع ملی تو پولیس فوراً جائے وقوع پر پہنچ گئی اور حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا، جس کی شناخت اسٹیفن پیڈووک کے نام سے کی گئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ہجوم میوزیکل کنسرٹ سے لطف اندوز ہورہا ہے کہ اسی دوران فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں اور کنسرٹ کے دوران بھگدڑ مچ گئی۔

عینی شاہدین نے مقامی ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ ‘چند حملہ آوروں نے ذرا اونچے مقام سے کنسرٹ میں شریک افراد پر مبینہ طور پر سیکڑوں گولیا برسائیں’۔

تاہم پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حملہ آور ایک یا اس سے زائد تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کے چند گھنٹوں میں ہی متاثرین سے اظہار ہمدردی شروع کی۔

حملہ آور کون تھا؟ 

دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے لاس ویگاس میں ہونے والے خون ریز واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنےبیان میں دعویٰ کیا کہ حملہ آور ‘ایک فوجی’ تھا اور چند مہینے قبل اسلام میں داخل ہوئے تھے تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

داعش نے اپنی نیوز ایجنسی عماق کے ذریعے اس واقعے کے حوالے سے دو بیان جاری کیے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا میں عوامی مقامات پر فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، گذشہ ماہ ستمبر میں مختلف واقعات میں 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیس کی کارروائی

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ اُس کی خاتون ساتھی کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون سے اہم پیشرفت متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: