Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
آئین کی انتخابی شق 203 میں‌ شرائط ہیں؟‌ جانیے | زرائع نیوز

آئین کی انتخابی شق 203 میں‌ شرائط ہیں؟‌ جانیے

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے انتخابی بل شق 203 کی مںظوری کے بعد ترمیم کردی گئی جس کے بعد اسے باقاعدہ آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ایوانِ بالا اور ایوانِ عظمیٰ سے منظور ہونے کے بعد اس بل پر صدر مملکت ممنون حسین نے دستخط کردیے، اطلاعات ہیں کہ صدر کی منظوری کے بعد کوئی بھی شہری سرکاری اور عوامی عہدہ رکھنے کا مجاز ہوگا۔

بل منظوری کے بعد ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ ّحکومت نے ترمیم کر کے ختم نبوت کی شرط ختم کردی، انہوں نے مذہبی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا”۔

شیخ رشید کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا اور ٹی وی اینکرز نے اس معاملے پر تبصرہ شروع کردیا جبکہ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر جو شرائط موجود  ہیں اُس میں امیدوار کا ختم نبوت اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان رکھنا لازم ہے۔

 

Image may contain: text
بشکریہ فواد رضا

انتخابی بل شق 203 کے اہم نکات

انتخابی اصلاحاتی بل کی شق 203 میں کہا گیا ہے کہ ہر پاکستانی شہری کسی بھی سیاسی جماعت کی رکنیت حاصل کرسکتا ہے۔

سیاسی جماعت کی رکنیت کے حوالے سے بل کے نکات یہ ہیں۔

1-ہر وہ شہری جو سرکاری ملازمت کا عہدہ نہیں رکھتا ہو وہ ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھ سکتا ہے، دوسری صورت میں ایک سیاسی جماعت سے منسلک ہو سکے گا، سیاسی سرگرمیاں میں حصہ لے سکتا ہے اور ایک سیاسی جماعت کا عہدیدار بھی منتخب ہوسکتا ہے۔

2-جب ایک شہری سیاسی جماعت میں شمولیت کرے گا تو اس کا نام بطوررکن سیاسی جماعت کے ریکارڈ میں درج کیا جائے گا اور رکنیت کا کارڈ یا دیگر دستاویزات بھی جاری کی جائیں گی جس سے سیاسی جماعت کی رکنیت ظاہر ہوتی ہو۔

3-کوئی بھی شہری ایک وقت میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کا رکن نہیں بن سکتا۔

4-سیاسی جماعت خواتن کو رکن بننے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

5-سیاسی جماعت کا رکن پارٹی کے ریکارڈ تک رسائی کا حق رکھتا ہے ماسوائے دیگر اراکین کے ریکارڈ کے۔

یاد رہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر (پی پی او) 2002 میں درج تھا کہ ایسا کوئی شخص سیاسی جماعت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا جو رکن قومی اسمبلی نہیں یا پھر اسے آئین کے آرٹیکل 62-63 کے تحت نا اہل قرار دیا گیا ہو۔