کراچی : سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے باسمتی چاول کی 25 فیصد پچھلی فصل کو ہونے والےنقصان کے باوجود مارچ کے دوران برآمدات 45 فیصد اضافے کے ساتھ 64 ہزار 274 ٹن ہوگئیں جو فروری میں 44 ہزار 137 ٹن تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈالر کی مد میں چاول کی برآمدات فروری کے دوران 49 ہزار 875 ڈالر کے برعکس مارچ میں 39 فیصد اضافے کے ساتھ 69 ہزار 475 ڈالر تک پہنچ گئیں تاہم غیر باسمتی چاول کی برآمد مارچ میں 35.5 فیصد کمی کے ساتھ 3 لاکھ 28 ہزار 344 ٹن رہ گئیں جو فروری میں 5 لاکھ 9 ہزار 271 ٹن تھیں۔ پاکستان نے رواں مالی سال جولائی تا مارچ کے دوران مجموعی طور پر 29 لاکھ 7 ہزار 322 ٹن چاول برآمد کرکے 15 لاکھ 98 ہزار 261 ڈالر کمائے۔
ان میں سے باسمتی چاول 4 لاکھ 28 ہزار 404 ٹن تھا جس کی مالیت 4 لاکھ 56 ہزار 361 ڈالر تھی جبکہ غیر باسمتی چاول 24 لاکھ 78 ہزار 918 ٹن تھا جس کی قیمت 11 لاکھ 41 ہزار 900 ڈالر تھی۔چاول کے تجارتی ماہر حامد ملک کا کہنا ہے کہ حالیہ برآمدی رجحان سے پاکستان 2 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف عبور کر سکے گا۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مقدار کے لحاظ سے برآمدات کے اعداد و شمار کم ہوسکتے ہیں تاہم جس طرح سے فصل متاثر ہوئی ہے، اْس لحاظ سے برآمدات نسبتاً تسلی بخش ہے کیونکہ برآمد کنندگان کو مناسب قیمت مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی منڈیوں میں ہمیشہ بھاری برآمدی قیمتیں اور طلب ہوتی ہے، اگرچہ فصل مقدار میں کم ہے لیکن قیمت کے لحاظ سے ہم 2 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کرنے والے ہیں۔
