Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
مردم شماری میں مجرمانہ غفلت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی, خالد مقبول | زرائع نیوز

مردم شماری میں مجرمانہ غفلت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی, خالد مقبول

کراچی ; متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اس شہر کے میں تمام زبانیں بولنے والے شہریوں سے کہتا ہوں کہ جن کے دکھ درد، مسائل ایک جیسے ہیں ہم سب کو اپنے برابر کا حق دار اور وفا دار سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کشادہ دلی اور مہمان نوازی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر سے لوگ یہاں آکر کام کرتے ہیں، یہاں مواقع ہی زیادہ نہیں بلکہ دل بھی بڑے ہیں، آپ سب باہر نکلیں کیونکہ مردم شماری کے سلسلے میں کی جانے والی یہ زیادتی کراچی میں رہنے والے تمام عوام کے ساتھ زیادتی ہے اور وہ تمام سیاسی جماعتیں جنہوں نے پورے شہر میں بینر لگا دئیے ہیں انکا کام صرف بینر لگانا نہیں ہے آئیں وہ ہمارا ساتھ دیں ناکہ ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز سے متصل پارک میں میڈیا کے نمائندوں سے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ کراچی اور حیدرآباد میں ایک بلاک میں 187 گھر ہیں جبکہ پورے پاکستان میں ایک بلاک میں اوسط 250 گھر ہیں،کراچی کی 53 لاکھ آبادی کو تو سیدھے سیدھے حساب کے تحت کم کر دیا گیا ہے،کراچی کی آبادی کو ایک فارمولے کے تحت کم کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نادرا کے ڈیٹا کے مطابق کراچی کے ایڈریس پر 2 کروڑ افراد کو شناختی کارڈ کا اجرا ہوا ہے، کراچی میں دیگر صوبوں سے آنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔جو روزگار کے حصول کے لیے کراچی کا رخ کرتے ہیں کیا وہ تمام لوگ کراچی کا پانی بجلی گیس سڑکیں اور دیگر انفرا اسٹرکچر استعمال نہیں کر رہے ہیں 70ء سے پہلے کراچی حیدرآباد اور سکھر کی آبادی 40 فیصد تھی اب تو پورا کابل رنگون ڈھاکہ بھی یہاں آچکا ہے۔

اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینرز ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل، مصطفیٰ کمال ،ڈپٹی کنوینرز انیس قائم خانی عبد الوسیم، دیگر اراکینِ رابطہ کمیٹی و حق پرست اراکین اسمبلی بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ 5 سال سے مستقل اپنے اندیشوں، مسئلوں اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں 1951 سے  1971 سے اب تک سندھ کے شہری علاقوں خصوصاً کراچی کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔اپنے مشاہدہ کی وجہ سے 2017 کی مردم شماری سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں اپنے خدشات لے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مردم شماری 9 سال بعد ہوئی تو ہم نے اس بار مردم شماری 4 سال قبل کروا دی لیکن اس بار بھی ہمیں یقین ہو گیا کہ ایک قومی اتفاقِ رائے کی وجہ سے کراچی کی آبادی کو کم دکھایا جا رہا ہے

۔انہوں نے کہا کہ کراچی والے سب سے زمہ داری کے ساتھ ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں، مردم شماری میں مجرمانہ غفلت کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے یہ بات سب کو یاد رکھنی چاہئے کہ کراچی جاگتا ہے تو پورا ملک چلتا ہے۔

سینئر ڈپٹی کنونئر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 2023 کی مردم شماری میں جو اعدادوشمار آئے ہیں ان سے ثابت ہوا ہے کہ دانستہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، شمار کنندگان کے ساتھ مل کر شہری سندھ کی آبادی کو کم اور دیہی سندھ کو مصنوعی طور پر بڑھا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سارے اعدادوشمار کو رکھیں تو ہمارے گھرانے 32.5 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد رہ گئے، 24 فیصد لاڑکانہ اور کراچی کی آبادی میں سوا فیصد بڑھائی گئی۔ ایسا تعصب مشرقی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ بھی روا نہیں رکھا گیا۔