ایم کیو ایم نے شدید تحفظات اور متعدد بار ان کا وزیراعظم سمیت دیگر اہم شخصیات کے سامنے اظہار کے باوجود مردم شماری درست نہ ہونے پر پارلیمانی سیاست سے احتجاجا علیحدگی پر غور شروع کردیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا عید کے چوتھے روز اہم اجلاس ہوا، جس میں مردم شماری اور اس کے غیر حتمی نتائج پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایم کیو ایم قیادت نے مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ہر فورم اور ہر انداز سے اس کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔
ایم کیو ایم نے احتجاج حکومت کا ساتھ اور اسمبلی چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام 7 اراکین قومی اسمبلی بشمول ایک وزیر کے استعفے طلب کرلیے ہیں، اراکین نے کنویئر کی ہدایت پر استعفے جمع کرادیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم قیادت استعفے دینے کے مناسب وقت کے حوالے سے مشاورت کررہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں صوبائی اسمبلیاں بھی چھوڑنے پر غور کیا جارہا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا کہ مردم شماری پر سخت تحفظات ہیںم مردم شماری کے صحیح کرو ورنہ وفاقی حکومت سے باہر آ جائیں گے۔
رابطہ کمیٹی کے اراکین نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی اتحاد کے لیے کیے جانے والے وعدے بھی وفا نہیں ہوئے۔
