سیاست کے حوالے سے چند ماہ میں بڑا فیصلہ کروں گی، فاطمہ بھٹو
کراچی(رپورٹ: مزمل فیروزی) سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی پوتی میر مرتضی بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو دوبارہ سیاست میں متحرک ہوگئیں، رہنماؤں اور کارکنان نے فاطمہ بھٹو کو پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی قیادت سنبھالنے کے مشورے بھی دینا شروع کردیے۔
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں آپ سب سے ملنے آئی ہوں اس حوالے سے چند ماہ میں بڑا فیصلہ کروں گی،فاطمہ بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے میں بلند ہوتی آوازوں کو دبانے سے نوجوان شدت پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں نوجوانوں کی آواز کودبایا نہیں جاسکتا۔
فاطمہ بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ آپ سب کے مشوروں کی قدر کرتی ہوں اور اُن کی روشنی میں جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گی۔
دوسری جانب فاطمہ بھٹو نے سندھ اور ملک کی اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا جس کی وجہ سے سیاست میں بڑی ہلچل مچ گئی، انہوں نے لاڑکانہ، نوڈیرو، خیر پور، سوبھودیرو میں پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کی دعوتوں میں شرکت بھی کی۔
فاطمہ بھٹو نے سرکاری اسکولوں کے دورے کئے جبکہ دوسری طرف انہوں نے سوشل میڈیا پرسندھ حکومت کی کرپشن اور تعلیم کی تباہی کو بے نقاب بھی کیا۔ فاطمہ نے سجاول میں قائم اپنے دادا سرشاہ نواز بھٹو کے نام سے منسوب اسکول جو بارہ سال بند ہے اس اسکول کی خستہ حالی کی تصاویر شیئر کی جو سندھ میں تعلیم کے حوالے سے پی پی سرکار کی ناکامی کا ثبوت ہے انہوں نے کارکنان سے کہا کہ سب بند اسکولز کی معلومات حاصل کر کے سوشل میڈیا پر ڈالیں.
