Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
نویں ،دسویں کے سالانہ امتحانات کا آغاز،بد نظمی کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے | زرائع نیوز

نویں ،دسویں کے سالانہ امتحانات کا آغاز،بد نظمی کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے

کراچی : کراچی میں نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوتے ہی بد نظمی کے سابقہ سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کے پریکٹیکل سیکشن کے اہلکار نوید قمر نے امتحانی مراکز کی خرید و فروخت کے سابقہ سارے ریکارڈ توڑڈالے،موصوف نے باقاعدہ سوفٹ ویئر تیار کر رکھا تھا جن اسکولوں نے سب سے زیادہ رقم ادا کی تھی ان کے کوڈ ڈالنے پر کمپیوٹر پر اس اسکول کا ڈیٹا سرخ رنگ میں اسکرین پر نمودار ہوتا تھا جس پر نوید قمر اس سے زیادہ بولی کا تقاضہ کرتا تھا30ہزار فی اسکول فیکسیشن سے شروع ہوکر یہ ریٹ 7000روپے فی بچہ تک پہنچ چکا تھا۔

پرچہ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل تک طلبا وطالبات کی بھیڑ بکریوں کی طرح خریدوفروخت ہوتی رہی،ظالموں نے زیادہ بولی لگانے پر ڈی ایچ اے میں واقع اسکول کا امتحانی مرکز صفورا گوٹھ میں قائم کردیا،نارتھ ناظم آباد کے اسکول کا امتحانی مرکز ملیر،ملیر کے اسکول کا امتحانی مرکز لیاقت آباد،گلشن حدید کے اسکول کا امتحانی مرکز گڈاپ،کورنگی کے اسکولوں کا امتحانی مرکز گلشن میں قائم کردیا،ناظم امتحانات اور چیئرمین بورڈ کے علم میں تمام معاملات ہونے کے باوجود وہ خاموش تماشائی بنے رہے،ڈپٹی کنٹرولر خالد احسان کو سیکریٹری بورڈز اینڈجامعات کی جانب سے نااہل قرار دیتے ہوئے ناظم امتحانات کے عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود امتحانی مراکز کا تمام ترانحصار ان پر کیا گیا۔

شدید گرمی اور دھوپ میں امتحانی مراکزتلاش کرتے رہے،بعض اسکولوں کے بچے چارسے پانچ مرتبہ فروخت ہوچکے تھے گھروں سے دور اور نامعلوم امتحانی مراکز کی تلاش میں بچے تاخیر سے پہنچے اور ان کو پرچہ حل کرنے کے لیئےمطلوبہ وقت میسر نہیں آیا،ذرائع کے مطابق بعض بچے امتحانی مراکز پر پہنچنے سے قاصر رہے اور وہ پرچوں مین شریک نہیں ہوسکے۔

راتوں رات امتحانی مراکز کی تبدیلی ا اعتراف کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ سید شرف علی شاہ نے کہا کہ بعض دوستوں اور بعض سیاسی لوگوں کے دباؤ کے باعث راتوں رات امتحانی مراکز تبدیل کرنے پڑے جس کی وجہ سے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،انہوں نے کہا کہ میڈیا یہ خبر چلادے کہ بچوں کو جو امتحانی مرکز قریب ترین ہو وہاں پرچہ دے دیں ،بورڈان کو ایڈجسٹ کر لے گا،تاہم اس وقت تک بچے گھروں سے امتحانی مراکز کی جانب نکل چکے تھے،گزشتہ روز کمپیوٹر اسٹیڈیز کا پرچہ تھااس میں طلبہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔

میٹرک مین زیادہ تر طلبہ بیالوجی کا مضمون پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔بغیر اطلاع کے اورنگی ٹاؤن کا اقرا جدید اسکول کا حب سینٹر سمیت بعض حب سینٹرز تبدیل کرنے سے امتحانی مراکز میں پرچہ بھی تاخیر سے پہنچا،کے الیکٹرک نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوران امتحان لود شیڈنگ کر کے طلبہ کو دہرے امتحان سے دوچار کر دیا ،بعض اسکولوں میں بچےشدید گرمی میں اندھیرے میں پرچہ دینے پر مجبور ہوگئے، چیئرمین میٹرک بورڈ شرف علی شاہ نے کے الیکٹرک کو بد مست ہاتھی قراردیدیا اور کہا کہ کے۔ الیکٹرک جب وزیر کی نہیں سنتا تو ہماری کیا سنے گا۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے سینٹرل جیل میں بھی امتحانی مرکز قائم کیا گیا۔ سینٹرل جیل میں نہم و دہم کے امتحانات دینے والے قیدیوں کی تعداد 33ہے۔ جن میں 25دہم اور 8نہم جماعت کے قیدی امتحانات میں شرکت کررہے ہیں۔ جیل حکام کا کہنا تھا کہ امتحان دینے والے 8قیدی ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں ان کو ایڈمٹ کارڈفراہم کردئیے گئے ہیں۔