Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
10 گھنٹے اعلانیہ اور گھنٹوں غیر اعلانیہ بندش: ’کے الیکٹرک نے ذہنی مریض بنادیا‘ | زرائع نیوز

10 گھنٹے اعلانیہ اور گھنٹوں غیر اعلانیہ بندش: ’کے الیکٹرک نے ذہنی مریض بنادیا‘

شہر قائد میں بجلی کے بل بھرنے والے صارفین کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی کے باعث ذہنی مریض بننے لگے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں 100 فیصد ریکوری کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی اور ناقص کارکردگی سے جہاں دیگر علاقے متاثر ہیں وہیں ضلع وسطی کا علاقہ لیاقت آباد سی ون ایریا ہے جہاں کے مکینوں کی زندگی کے الیکٹرک نے اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔

مذکورہ علاقے میں ہزاروں کے بل ادا کرنے والے صارفین کو یومیہ دس سے بارہ گھنٹے کی اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بعد اب مرمت کے نام سے گھنٹوں بجلی بند رہنے کے معمول کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں روپے کے بل دینے کے باوجود بھی کے الیکٹرک کا سفاکانہ سلوک جاری ہے، آخری تاریخ سے پہلے اپنا پیٹ کاٹ کر اور بچوں کی خواہشات مار کر بل ادا کرنے کے باوجود بھی کے الیکٹرک کی جانب سے اذیت دی جاتی ہے۔

متاثرہ مکینوں نے بتایا کہ ہیلپ لائن پر کمپلین کرو تو بیلنس خرچ ہونے کے بعد ایک نیا وقت دیا جارہا ہے، دن میں 8 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کے بعد یکم نومبر کی رات 8:45 سے مستقل بجلی بند ہے۔ جبکہ گلی نمبر تین کی بجلی 31 گھںٹوں سے مستقل بند ہے۔

لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ کیا ہے؟

لیاقت آباد سی ون ایریا کے سامنے یعنی روڈ کے عقب دوسرے پار بی اور بی ون ایریا میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اسی طرح دیگر علاقے بھی لوڈ شیڈنگ سے مستشنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔

سی ون ایریا کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اُن کے لیے مختص پی ایم ٹی (جو کانچ فیکٹری، کچرے خانے کے قریب نصب ہے) وہاں سے بلوچ پاڑے اور ندی کے نیچے قائم جھونپڑیوں میں ماہانہ رقم طے کر کے میٹر کے بغیر کنکشنز دیے گئے ہیں۔

مکینوں نے انکشاف کیا کہ جن گھروں میں میٹر کے بغیر کنکشنز ہیں وہ محض چند رقم کی عوض اے سی، ٹی وی، موٹریں اور دیگر بھاری برقی آلات چلاتے ہیں، پی ایم ٹی کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے کے الیکٹرک کی جانب سے یومیہ دس سے بارہ گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔

علاقہ مکینوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ہمارے لیے علیحدہ سے پی ایم ٹی مختص کی جائے جس سے صرف گلی والے اُن لوگوں کو کنکشنز دیے جائیں جو ادائیگیاں کرتے ہیں تاکہ ہمیں لوڈشیڈنگ کی دہری اذیت سے نجات مل سکے۔

کے الیکٹرک کا مؤقف

اس ضمن میں جب کے الیکٹرک کے نمائندے (جو لیاقت آباد دیکھتے ہیں) سے بات ہوئی تو عمران (فرضی نام) نے کہا کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ لائن لاسسز اور بجلی چوری کا مسئلہ ہے، پی ایم ٹی کے ساتھ لگے میٹر سے یونٹ دیکھ کر علاقے ہونے والے نقصان کو لوڈشیڈنگ سے مکمل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علیحدہ پی ایم ٹی کا مطالبہ شہریوں کی خواہش تو ہوسکتی ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے ایک لمبا طریقہ کار واضح ہے اور اس کے لیے اعلیٰ حکام کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کی پُراسرار خاموشی

مذکورہ علاقے میں ویسے تو ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ فنکشنل (پیر پگارا)، پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں موجود ہیں مگر اُن کے مقامی عہدیداران کی علاقائی مسائل پر کوئی توجہ اور دلچسپی نہیں بلکہ انہوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب بھی لیاقت آباد سی ون ایریا کی چند گلیوں اور عثمان گوٹھ کی لائٹ ادائیگی نہ ہونے پر صبح چھ بجے سے بند کی گئی تھی جس پر مکینوں نے احتجاج کیا تو یوسی 43 کے وائس چیئرمین بھی اُن کے ساتھ کھڑے ہوگئے، بعد ازاں کے الیکٹرک رات گئے کے الیکٹرک کی ٹیم نے آکر ایک مخصوص علاقے کی بجلی بحال کردی تھی تاہم درجنوں گھر ابھی تک بجلی سے محروم ہیں۔

علاقہ مکینوں نے جب دوپہر کو سڑک پر نکل کر احتجاج کرنے کی کوشش کی تو معاملہ لسانی صورت اختیار کرگیا تھا، جس پر زعما نے احتجاج کو مؤخر کروایا۔ علاقے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک اسی نقطے کی بنیاد پر ہمارے یعنی مہاجر اکثریتی آبادی کے ساتھ زیادتی کررہی ہے جبکہ جہاں غیر قانونی کنکشنز ہیں وہاں سے پیسے وصول کر کے دونوں ہاتھوں سے نفع کما رہی ہے۔


نوٹ : آپ ذرائع نیوز سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کیلیے ہمارا واٹس ایپ چینل لنک پر کلک کر کے جوائن کرسکتے ہیں۔