حیدرآباد کے حالی روڈ پر فائرنگ کے ایک واقعے میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مقامی رکن ڈاکٹر نوشاد خان یوسفزئی جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر نوشاد اپنے بچوں کو اسکول چھوڑ کر واپس گھر آرہے تھے کہ گھر کے قریب انہیں گھات لگائے مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
پولیس نے مقتول کی لاش کو قریبی ہسپتال منتقل کر کے واقعے کی تفتیش کا آغاز کردیا ہے تاہم اب تک ان کے قتل کی کوئی وجہ سامنے نہیں آسکی۔
ایم کیو ایم کے مقتول رکن ڈاکٹر نوشاد خان یوسفزئی حیدر آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے۔

ڈاکٹر نوشاد ویٹنری ڈاکٹر تھے جو حیدرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے ایک سیکٹر کے امور کو دیکھ رہے تھے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نوشاد کو تین گولیاں سینے میں جبکہ ایک گولی ان کے چہرے پر لگی ہے۔
عینی شاہد کے مطابق ایم کیو ایم رہنما کو نشانہ بنانے والے حملہ آوروں کی تعداد تین تھی جنہوں نے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے اور ایم کیو ایم رہنما پر فائرنگ کے بعد وہ موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔
