اسلام آباد: ڈی جی ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ امریکا نے حسین حقانی کی حوالگی سے انکار کرتے ہوئے ان کے بدلے اپنا ایک بندہ مانگ لیا ہے، دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ امریکا نے شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے کوئی پیش کش نہیں کی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت ہوئی، عدالت نے پوچھا کہ سنا ہے حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ وصول کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔
ڈی جی ایف آئی نے عدالت کو بتایا کہ میری امریکیوں سے بات ہوئی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا بھی ایک بندہ آپ کے پاس ہے، میں نے ان کو حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ بھی دکھائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ امریکا نے حسین حقانی کو ریڈ وارنٹ دینے سے انکار کیا، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کوئی ملزم بیان حلفی دے اور پھر پیش نہ ہو تو کیا حکومت اسے بھیجنے سے انکار کرسکتی ہے؟
ڈی جی ایف آئی کا کہنا تھا کہ حسین حقانی کی کرپشن کے حوالے سے بھی امریکیوں کو بتایا گیا لیکن ان کی طرف سے تعاون نہیں کیا جارہا ہے۔ انھوں نے الطاف حسین کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ بانی ایم کیو ایم کیس میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، انٹرپول میں پانچ بھارتی افسران ہیں لیکن ایک بھی پاکستانی نہیں ہے۔
عدالت نے میمو گیٹ اسکینڈل میں معاونت کے لیے ممتاز ماہر قانون احمر بلال صوفی کو مقرر کردیا جو حسین حقانی کی وطن واپسی کے سلسلے میں عدالت کی معاونت کریں گے، کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ فروری میں سپریم کورٹ نے حسین حقانی کا ریڈ وارنٹ جاری کردیا تھا جب کہ مارچ کے اختتام پر سپریم کورٹ نے حکومت کو حسین حقانی کو ملک واپس لانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی تھی۔
یاد رہے کہ 2011 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کے بعد امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے امریکی حکام کو پاکستان میں فوجی بغاوت کے خطرے کے پیش نظر ایک خط بھیجا تھا جس میں امریکا سے جمہوری حکومت کی مدد کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ 2012 سے یہ کیس زیر التوا رہا ہے۔
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، حسین حقانی سے تبادلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر او آئی سی کے کانٹیکٹ گروپ کا ہنگامی اجلاس جدہ میں ہوا۔ سیکریٹری خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں بھارتی جارحانہ عزائم سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری خارجہ نے کشمیر کی حمایت پر او آئی سی کا شکریہ ادا کیا۔ سیکریٹری خارجہ نے واضح کیا کہ مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ اجلاس میں حریت کانفرنس کے غلام محمد صفی نے یادداشت پیش کی۔
