ایبٹ آباد کے مکینوں نے بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے قاری کو نشانِ عبرت بنا دیا، علاقہ مکینوں نے قاری کا منہ کالا کر کے اُس کا سرمنڈا اور پھر علاقہ بدر کردیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق قاری ساجد تین سال سے مسجد کا امام تھا اور اُس کے پاس حال ہی میں 9 کے قریب بچیوں کا مدرسے میں داخلہ کرایا گیا جس کے بعد اُس نے بچیوں سے نازیبا حرکات شروع کیں۔
اٹھائیس سالہ قاری کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ شادی شدہ بھی ہے، ایک بچی نے ہمت کر کے اپنے گھر پر تمام بات بتائی جس کے بعد علاقے میں بات پھیل گئی تو چار سو کے قریب افراد جمع ہوئے اور انہوں نے ساجد کو کمرے میں بند کر کے اس کے والدین کو بلایا۔
وائس آف ہزارہ کی رپورٹ کے مطابق قاری کے والدین نے عمائدین کی منتیں سمجاتیں کیں اس دوران وہ وہاں سے فرار ہوا مگر نوجوانوں نے تعاقب کے بعد اُسے پکڑ لیا اور تشدد کے بعد گنجا کر کے منہ کالا کیا اور پھر اُسے گھمایا بعد ازاں علاقہ بدر کردیا گیا۔
