ڈیم کے پہرے دار چیف جسٹس نے غیر ملکی شہرت حاصل کرلی؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جو اپنے بیانات اور فیصلوں کی وجہ سے بہت زیادہ مشہور ہوئے اُن کی سبکدوشی کے بعد بھی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

سابق چیف جسٹس کے حوالے سے خبریں زیر گردش تھیں کہ انہوں نے بیرونِ ملک میں شہرت حاصل کرنے کے لیے سفارت خانے میں درخواست جمع کرادی، اطلاعات تھیں کہ ثاقب نثار لندن جانے کے خواہش مند ہیں۔

البتہ اب سابق منصفِ اعلیٰ نے خود میدان میں آکر اعلان کیا کہ انہوں نے کسی ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے درخواست نہیں دی وہ اپنی ساری زندگی پاکستان میں گزاریں گے اور اُسی عزم کے ساتھ رہیں گے۔

یہ بات سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے سابق گورنر خواجہ طارق رحیم، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق اور عبداللہ ملک سمیت سول سوسائٹی کے ارکان سے ملاقات میں واضح کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے پاکستان چھوڑ کر دوسرے ملک منتقل ہونے اور شہریت لینے کی خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ان کا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے اور وہ غیر ملکی شہریت لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

ڈیم فنڈ سے 11 ارب روپے اچانک کم ہوگئے

انہوں نے مہمند ڈیم کی تعمیر کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈیم پر مرحلہ وار کام ہورہا ہے اور تعمیر پر پیشرفت ہو رہی ہے جس کا جائزہ حکومت کو لینا ہے۔نومبر میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔ ڈیم فنڈ کی رقم کم ہونے کے حوالے سے چیف جسٹس نے وضاحت فرمائی کہ عوام کا پیسہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ مین محفوظ ہے، عوامی پیسے کی نگرانی عدالت ہی کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: