شیخ‌ رشید، اقرار اور بادامی کی لندن جانے کی وجہ کشمیر نہیں‌ بلکہ …

میڈیا اور ویڈیوز پر بیانات دے کر کشمیر فتح کرنے کے دعویدار اور وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد ، اے آر وائی نیوز کے اینکر اقرار الحسن اور وسیم بادامی گزشتہ دنوں لندن پہنچے۔

ابتدائی طور پر ظاہر کیا جارہا تھا کہ تینوں شخصیات بشمول معاون خصوصی برائے نوجوانان زلفی بخاری بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے لندن میں موجود ہیں۔

برطانوی ہائی کمشن کے باہر ہونے والے مظاہرے والے روز شیخ رشید احمد ہوٹل میں سوتے رہ گئے اور مظاہرے میں شریک نہ ہوسکے ، بعد ازاں وہ انیل مسرت کے ساتھ خریداری کے لیے باہر نکلے اور جوتے بھی خریدے۔انہوں نے خود اعتراف کیا کہ انیل مسرت نے اُن کے لیے 67 پاؤنڈز کے جوتے خریدے اور یہ رقم بردرانہ دوستی کے آگے کچھ زیادہ نہیں ہے۔

لندن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شیخ رشید ایک فیشن شو میں شرکت اور دکان کے افتتاح کے لیے گئے تھے، اُن کے آمد و رفت کے اخراجات لارڈ نذیر جبکہ لندن کے تمام اخراجات انیل مسرت نے اٹھائے۔

اسی طرح وسیم بادامی اور اقرار الحسن نے بھی ظاہر کیا کہ وہ لندن کشمیر کاز کی وجہ سے گئے مگر گزشتہ روز ہونے والے ایوارڈ شو کے بعد حقیقت سامنے آئی کہ یہ دونوں شخصیات بھی ایوارڈ شو کا مقصد لیے لندن پہنچیں تھیں۔

وسیم بادامی کو رمضان شو اور کرنٹ افیئر شو پر ایوارڈ جبکہ سرعام کو بھی پاکستان اچیومنٹ ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا، اقرار الحسن نے اپنا ایوارڈ سہیل وڑائچ اور اے آر وائی نیوز کے نام کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: